آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 181
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 181 باب چہارم شریف کو بشری طاقتوں سے بالاتر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہو دیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور بد باطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی یہ یقین کامل آنحضرت کو اتنی جانتے تھے اور اسی لئے جب وہ بائیبل کے بعض قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور امتحان نبوت پوچھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب پاتے تھے تو یہ بات ان کو زبان پر لانے کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت کچھ پڑھے لکھے ہیں۔آپ ہی کتابوں کو دیکھ کر جواب بتلا دیتے ہیں بلکہ جیسے کوئی لاجواب رہ کر اور گھسیانا بن کر کچے عذر پیش کرتا ہے ایسا ہی نہایت ندامت سے یہ کہتے تھے کہ شاید در پر وہ کسی عیسائی یا یہودی عالم بائیبل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا امی ہونا ان کے دلوں میں یہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت تھی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی در پر وہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بد یہی البطلان تھا۔اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہل کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محترف اور مبدل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خودان کو بشرطیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔اور اُن کے اصول مصنوعہ کو دلائل قویہ سے تو ڑتا ہے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مد مت کرواتے۔اور اپنی کتابوں کا آپ ہی رد نکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ ست اور نا درست ہاتھیں اس لئے دنیا پرستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پر زور روشنی سے اپنی کر نہیں چاروں طرف چھوڑ رہا تھا کہ وہ اس سے چمگادڑ کی طرح چھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہرگز ثبات وقیام نہ تھا بلکہ تعصب اور مدت عناد نے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنا رکھا تھا۔