آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 175 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 175

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 175 باب سوم فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى قَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف ) اے محمد (ﷺ) تو اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کر رہا ہے کہ لوگ ہمارے کلام پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔یہ خواہش تھی رسول کریم ﷺ کی کہ آپ کی قوم خدا تعالیٰ کے کلام کو مان لے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرضی تو نے دیکھا کہ تیری ہر گھڑی کو ہم نے پہلے سے اچھا رکھا۔پھر کیا تمہاری یہ بات ہم رڈ کر دیں گے کہ تیری قوم ہدایت پا جائے۔ہمیں اس خواہش کا بھی علم ہے اور اسے بھی ہم پورا کر دیں گے۔پھر فرمایا الم يجدك يتيما قوى ال محمد (می) تو یتیم تھا جب پیدا ہوا۔اس قیمی کے وقت سے خدا نے تم کو اپنی گود میں لے لیا۔گویا کوئی وقت خدا کی گود سے باہر اب تک آیا ہی نہیں۔آوای کے معنی ہیں قرب میں جگہ دی فرمایا أَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما قوى كيا خدا نے تم کو یتیم پا کر اپنے پاس جگہ نہیں دی۔وَوَجَدَكَ ضَا لَّا فَهَدَی اب اس کے معنے اگر یہ کئے جائیں کہ تجھے گمراہ پایا پھر ہدایت دی تو یہ معنی یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔پس اس کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے تجھے میں محبت کی تڑپ دیکھی اور دنیا کی ہدایت کا سامان دے دیا۔ان معنوں کی تائید ایک اور آیت سے بھی ہوتی ہے۔جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے تو انہیں گھر والوں نے کہا تاللهِ انَّكَ لَفِي ضَالِك تقديم (یوسف: ۹۹) یوسف کی پرانی محبت تیرے دل سے نکلتی ہی نہیں۔تو ابھی تک اس پرانی محبت میں گرفتار ہے۔وہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کو گمراہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ یوسف علیہ السلام کی محبت میں کھویا ہوا سمجھتے تھے۔اس لئے ضلال کا لفظ انہوں نے شدت محبت کے متعلق استعمال کیا۔پس وَوَجَدَك ضَا لا فَهَدی کے یہ معنی ہیں کہ جب تو جوان ہو اور تیرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ خدا سے ملے بغیر میں آرام نہیں پاسکتا تو ہم نے تجھے فوراً آواز دی کہ آجا میں موجود ہوں۔اے محمد (ﷺ) تجھے معلوم ہے کہ جب ہم نے ہدایت دی تو وہ تیرے نفس کے لئے ہی نہ تھی بلکہ ساری دنیا کے لئے تھی۔پس لوگ تیرے پاس آئے اور مختلف طبائع کے لوگ