آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 174
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 174 باب سوم ا ہوش کے زمانہ کو بھی اور بچپن کے زمانہ کو بھی جو جہالت کا زمانہ ہوتا ہے۔پھر اس زمانہ کو بھی جو نبوت سے پہلے کا تھا۔اور اسے بھی جب نبوت کا سورج طلوع ہو کر نصف النہار پر آ گیا۔تجھے پر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ تو دایہ کی گود میں تھا۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جو شباب کی تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ زمانہ بھی آیا جب جذبات سرد ہو جاتے ہیں۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ ہر طرف تیرے دشمن ہی دشمن تھے اور تیرے لئے دن بھی رات تھا۔پھر وہ زمانہ آیا جب ساری قوم تجھے امین اور صادق کہتی تھی۔ان سب زمانوں کو دیکھ لو کیا کوئی وقت بھی ایسا آیا ہے جب خدا نے تیری نصرت سے ہاتھ روکا ہو۔اس کی نا رائستگی کسی رنگ میں تجھ پر ظاہر ہوتی ہو۔بعض لوگ آرام اور عزت حاصل ہونے پر بگڑ جاتے ہیں مگر تجھے جب امن ہوا امیر بیوی ملی۔تیری قوم نے تیری عزت کی۔اس وقت بھی تو نے اچھے کام کئے۔پھر وہ زمانہ آیا کہ خدا نے اپنا کلام تجھ پر اتارا تب بھی تو فرمانبردار رہا۔گویا تیری ہر آنے والی گھڑی پہلی سے اعلیٰ اور بہتر رہی ہے۔اور خدا کی تائید اور اس کی پسندیدگی بڑھتی چلی گئی۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ کی صداقت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے۔عجیب بات ہے خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بچپن سے آخر تک دیکھ لو۔ایک لمحہ بھی اس کے لئے گمراہی کا نہیں آیا اور خدا تعالیٰ نے اسے نہیں چھوڑا۔مگر نا دان مخالف کہتے ہیں کہ آپ گمراہ تھے۔اگر یہی گمراہی ہے تو ساری ہدا یت اس پر قربان کی جاسکتی ہے۔پھر فرماتا ہے وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولىی (ضعی ۵)۔تیرا ہر قدم ترقی کی طرف چلتا گیا۔بچپن میں انسان بے گناہ ہوتا ہے۔اگر نعوذ باللہ رسول کریم ہے بڑے ہو کر گمراہ ہو گئے تو آخرت اولی سے بہتر نہ ہوئی مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلے سے اچھی تھی۔اور جب ہر انگلی گھڑی اچھی تھی تو ضلالت کہاں سے آگئی۔الله پھر فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرضى عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے ایسے انعام دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔اس کے متعلق ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وہ کون سی خواہش تھی جس کے پورا ہونے سے آپ خوش ہو سکتے تھے۔سورہ کہف رکوع میں آتا ہے۔