آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 176
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 176 باب سوم آئے پھر ہم نے ان کی کفالت کے لئے قرآن کے ذریعہ تجھے وہ رزق دیا جو ہر فطرت کے انسان کے لئے کافی تھا۔پر وَوَجَدَكَ عَابِلا فَاغْنى (الضحی : 9) - اے محمد (ﷺ) ہم نے تجھے کثیر العیال پایا اور اپنے فضل سے غنی کر دیا۔فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ وَأَمَّا السَّابِلُ فلا تنهر (الضحی : 1110)۔بس اب تو بھی ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا کہ ان کی طاقتیں پچلی جائیں۔ند اتنی رعایت کرنا کہ بگڑ جائیں۔اس آیت میں خان کے مقابل پر مسائل رکھا گیا ہے۔جس میں اس طرف اشارہ کے وہاں بھی حال سے مراد خدا کی محبت کے طلبگار کے ہیں۔بہر حال فرمایا کہ جب کوئی تمہارے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے آئے تو انکار نہ کرنا بلکہ وہ ہدایت جو ہم نے تجھے دی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچانا۔ضال کے جو معنی میں نے اس وقت کئے ہیں اس کے خلاف کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَك ضَالا فهلی ہم نے تجھے مال پایا اور اس کے نتیجہ میں ہدایت دی اور دوسری طرف فرماتا ہے واللہ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ لَه فق کے نتیجہ میں کبھی ہدایت نہیں ملا کرتی۔پھر خال کے معنی گمراہ کس طرح کئے جاسکتے ہیں۔پھر فرماتا ہے: وَإِذَا جَاء لَهُمْ أَيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُوتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الذِيْنَ أَجْرَ مُوْا صَغَارُ عِندَ اللهِ وَ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ (الانعام: ۱۳۵) جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اسے نہیں مان سکتے جب تک ہمیں ویسا ہی کلام نہ ملے جو رسولوں کو ملا۔اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔یہ گناہگار لوگ ہیں ان کو تو ذلت ہی ملے گی۔اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا کہ گناہ کے نتیجہ میں ذلت حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہدایت۔“ انوار العلوم جلد ۱۲ صفه ۲ ۴۶ تا صفحه ۴۶۷)