آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 173 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 173

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 178 باب سوم فرمایا قریب تھا کہ لوگ تجھے عذاب میں مبتلا کر دیں۔عام طور پر لوگوں نے غلطی سے اس صا الله کے یہ معنی کئے ہیں کہ رسول کو پھسلا لیں۔مگر وہ رسول کریم کو کہاں پھسلا سکتے تھے۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ قریب ہے کہ یہ لوگ تجھے سخت عذاب دیں۔اس کلام کی وجہ سے جو تجھ پر وحی کیا کہ گیا ہے۔تا کہ تو اس سے گھبرا کر کچھ تبدیلی کرلے اور اگر ایسا ہو تو یہ ضرور تجھے دوست بنا لیں۔لیکن ان کا خیال ایک جنون ہے۔ولولا أن ثَبِّتْنَكَ لَقَدْ كِدَتْ تَرَكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا (بنی اسرائیل: ۷۵) اگر ہم نے قرآن نہ بھی نازل کیا ہوتا تو بھی تیری فطرت ایسی پاک ہے کہ یہ بات تو بڑی ہے، تیری ان سے مشابہت پھر بھی معمولی سی ہوتی۔مگر اب تو تجھے وحی الہی نے ایک صحیح راستہ دکھایا دیا ہے۔اب ان کی یہ خواہش کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ پھر وَوَجَدَكَ ضَالا فھدی کا کیا مطلب ہوا۔سو اس کا الله جواب خود اسی سورۃ میں موجود ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کی ایک زیر دست دلیل دی گئی ہے۔فرماتا ہے: وَالضحى واليل إذا سجى ) مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وما قلى (الضحى ٢٢) اے دنیا کے لو گوسنو ! عین دوپہر کے وقت کو اور رات کو جب وہ خوب ساکن ہو جاتی ہے اور اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ہم اس بات کی شہادت میں پیش کرتے ہیں کہ محمد کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا اور ن محمد رسول اللہ ﷺ سے ہم بھی ناراض ہوئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ دو پہر اور آدھی رات اس بات کی کس طرح دلیل ہیں کہ محمد ے سے خدا کبھی ناراض نہیں ہوا اور نہ اس نے آپ کو چھوڑا۔یہ ظاہر ہے کہ یہاں ظاہری دن رات مراد نہیں بلکہ مجازی دن رات مراد ہیں۔اور یہ محاورہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ رات اور دن سے خوشی اور رنج اور ہوش اور غفلت کا زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔رات تاریکی ، مصیبت اور جہالت کو کہتے ہیں۔اور دن ترقی ، روشنی اور علم کے زمانہ کو کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیری عمر کی ان گھڑیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو خوشی کی تھیں اور ان کو بھی جو رنج کی تھیں۔اور تیرے