آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 3
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات میہ سے اندھی ہوگئی ہے۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔راوی کہتے ہیں آپ یہ شعر پڑھتے جاتے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔میں نے پوچھا حضرت ! کیا معاملہ ہے، کونسا صدمہ پہنچا ہے؟ آپ نے فرمایا حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں آرزو پیدا ہور تھی کہ " کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا“ محبوب کے لئے غیر معمولی غیرت سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ۲۷-۲۸) سچا عاشق اپنے معشوق کے لئے غیرت بھی رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا اور محبوب کے لئے غیر معمولی غیرت رکھتے تھے اور اس کا کئی لحاظ سے اظہار ہوتا تھا۔ایک دفعہ آپ سفر میں تھے۔لاہور اسٹیشن پر وضو فرما رہے تھے۔دشمن اسلام اور معاند بانی اسلام پنڈت لیکھر ام آیا اس نے آپ کو سلام عرض کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا۔اس خیال سے کہ شائد سنانہ ہو دوسری طرف سے آکر پھر سلام کیا مگر آپ نے توجہ نہ کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا۔آپ نے کمال غیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ”ہمارے آقا کوتو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے؟ (سیرت طیبہ صفحہ ۳۰ ۳۱ ) بدن لرزتا اور دل روتا ہے معاندین اسلام اور دشمنان اسلام نے آنحضور کی شان میں جو ہرزہ سرائی کی ہے اس کی وجہ سے آپ انتہائی کرب میں مبتلا ہو جاتے تھے۔اس کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں جو عشق رسول میں ڈوبی ہوئی تحریر ہے۔فرمایا: " اور اس قدر بد کوئی اور اہانت اور دشنام وہی کی کتا ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑنا اور دل رو