آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 172 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 172

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 172 پر ہوتا۔لیکن اس کا کلام تو پر شوکت اور قادرانہ کلام پر مشتمل ہے۔شیطانی تعلقات والا انسان دنیا پر تصرف کیسے حاصل کر سکتا ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ پنی میں بیان کیا ہے۔فرماتا ہے۔وَالآخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِنَ الأولى (اصلی (۵) تیری ہر پیچھے آنے والی گھٹڑی پہلی سے بہتر ہے۔اب کیا یہ مجیب بات نہیں کہ یہاں تو کہا کہ تیری ہر پچھلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہوتی ہے۔لیکن اس سورۃ میں کہہ دیا کہ تو گمراہ تھا۔آیا پچھلی گھڑی کا پہلی سے اچھی ہونا ضلالت کی دلیل ہوتا ہے؟ سورۃ ابراہیم رکوع ۴ میں آتا ہے: الَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء (ابراہیم (۳۵) یا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسی باتیں بیان کرتا ہے۔پاک کلمہ کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑ میں بڑی مضبوطی ہوتی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔اسی طرح صادق کی علامت یہ ہے کہ اس کی تعلیم ترقی کرتی ہے اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے۔اب یہ رسول جو دن رات ترقی کر رہا ہے اگر ضلالت پر ہونا تو جتنی زیادہ تعلیم بنا نا اسی قدر زیادہ نقص ہوتے۔مگر اس کے کلام کی زیا دتی تو اس کی تعلیم کو مکمل بنا رہی ہے۔پھر بتایا اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا مگر اس کا کلام تو ایسا ہے کہ وہ: وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ان هو الا وفى تُوَلي عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقَوْى ن هُوَ إِلَّا وَحْى (النجم: ۶۲۴) سیدا اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے اور اس کو یہ کلام بڑی قوت والے خدا نے سکھایا ہے۔ایک اور آیت بھی اس امر کو حل کرتی ہے۔سورہ بنی اسرائیل رکوع ۸ میں آتا ہے: وإن كَادُوا لَيَفْتِنُونَك عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ تَفْتَرَى علينا غَيْرَةَ وَإِذَا لَّاتَّخَدُوكَ خَلِيلًا (بنی اسرائیل : ۷۴ )