آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 171 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 171

استحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 171 ضال ہونے کا الزام اور اس کی حقیقت آنحضور پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ آپ خال تھے اور آپ سے گناہ سرزد ہوتے تھے۔اس الزام کی حقیقت حضرت مصلح موعود ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: دوسرا الزام رسول کریم ﷺ پر یہ لگایا گیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ نبوت سے پہلے نال تھے : نعوذ اور بعد میں بھی گناہ آپ سے سرزد ہوتے رہے۔ان الزامات کی بنا خود قرآن کریم ہی کی بعض آیات کو قرار دیا گیا ہے۔سال کے متعلق تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے وَوَجَدَك ضَائًا فَهَدى (المی ) ہم نے تجھے مال پایا پھر ہدایت دی۔اس کا جواب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے ضلالت کی کلی طور پر نفی کر دی ہے۔فرمانا ہے۔وَالنَّحْرِ إِذَا هَوَى مَاصَل صَاحِبَكُمُ وَمَا عموی (انجم ۳۲) ہم نجم کو شہادت ) کے طور پر پیش کرتے ہیں۔نجم اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کی جڑ نہ ہو۔فرمایا ہم اس بوٹی کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی جڑ نہیں ہوتی جب کہ وہ گر جاتی ہے۔یعنی وہ جتنا اونچا ہونا چاہتی ہے اسی قدر کرتی ہے۔اس شہادت سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا یہ صاحب کبھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ راستہ سے دور ہوا۔ضَل ظاہری گمراہی کے لئے آتا ہے اور خوبی باطنی فساد کے لئے جو فساد اعتقاد سے پیدا ہو۔فرمایا جو بے جڑ کی بوٹی ہو اس پر تو جتنے زیادہ دن گزریں اس میں کمزوری آتی جاتی ہے۔اگر محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا سے تعلق نہ ہوتا تو اس کی جڑ مضبوط نہ ہوتی اور یہ کمزور ہوتا جاتا اور خرابی پیدا ہو جاتی۔مگر تم دیکھتے ہو کہ جوں جوں دن گزررہے ہیں اسے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل ہو رہی ہے اور یہ دن رات ظاہری اور باطنی طور پر ترقی حاصل کر رہا ہے۔اگر ضلالت اس کے اند ر ہوتی تو اس پر ضلالت والا کلام نازل ہوتا۔مگر اس پر جو کلام نازل ہوا ہے اس میں دیکھو کہ کیا اس میں کوئی بھی ہوائے نفس کا نشان ملتا ہے۔اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام