آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 170 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 170

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات اور گناہگاروں کو پاک بناتا ہے۔پھر اس سے بڑھ کر فرمایا:۔170 قُل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُجيكُمُ اللهُ اِنْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ( آل عمران :۳۲) تو کہہ دے کہ اے ماننے والویا مجھ پر اعتراض کرنے والو! اگر تم اللہ کا محبوب مینا چاہتے ہو تو آؤ اس کا طریق میں تمہیں بتاؤں۔جس طرح میں عمل کرتا ہوں اس طرح تم بھی عمل کرو۔پھر اللہ تعالیٰ تم کو بھی اپنا محبوب بنالے گا۔پھر اس سے بھی آگے ترقی کی اور فرمایا کہ محمد رسول اللہ (ﷺ) تو وہ ہے کہ اس پر جو کلام نازل ہوا ہے اسے بھی ہم کسی ناپاک کو چھونے نہیں دیتے۔پھر کیا اس کلام کو لانے والا نا پاک ہو سکتا ہے۔چنانچہ فرمایا: إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ) في كِتَبٍ تَكْنُونٍ لَا يَمَسَّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: ۷۸-۸۰) یه قرآن بڑی عظمت والا ہے۔یہ اس جگہ خدا نے رکھا ہے جہاں کوئی گندہ شخص اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا اور اسے مطہر کے بغیر کوئی چھوہی نہیں سکتا۔پھر جس پر یہ کلام نازل ہوا اسے ناپاک کس طرح کہہ سکتے ہو۔پھر فرمایا ہم نے اسے وہ کتاب دی ہے جس کو آج ہی نہیں بلکہ آئندہ بھی کوئی ناپاک نہیں چھو سکے گا۔بِايْدِى سَفَرَةٍ ناكِرَامٍ بَرَرَةٍ (حبس : ۱۲، ۱۷) یہ ہمیشہ ایسے لوگوں۔کے ہاتھ میں رہے گی جو دور دور سفر کرنے والے اور نہایت معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہوں گے۔“ انوارالعلوم جلد ۲ صفحه ۷ ۴۶ تا ۴۷۰)