آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 169 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 169

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 169 میں دشمن چن چن کر صحابیوں کو مار رہے تھے۔عکرمہ نے کہا یہ بات مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔کوئی ہے جو دشمن کے مقابلہ کے لئے میرے ساتھ چلے۔اس طرح کچھ آدمی ساتھ لئے اور جرنیل سے اجازت لے کر دشمن پر جس کی تعداد ساٹھ ہزار تھی حملہ کر دیا اور عین قلب پر حملہ کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کو شکست ہو گئی اور وہ بھاگ گئے۔اس وقت عکرمہ کو دیکھا گیا تو وہ دم تو ڑ رہے تھے۔ان کی پیاس محسوس کر کے جب پانی لایا گیا تو انہوں نے کہا پہلے میرے ساتھی کو پانی پلاؤ۔اس ساتھی نے دوسرے کی طرف اشارہ کر دیا اور دوسرے نے تیسرے کی طرف۔وہ سات نوجوان تھے جو زخموں کی وجہ سے دم توڑ رہے تھے مگر کسی نے پانی کو منہ بھی نہ لگایا۔اور ہر ایک نے یہی کہا کہ پہلے فلاں کو پلاؤ مجھے بعد میں پلا دینا۔جب سب نے انکار کیا تو وہ پھر عکرمہ کے پاس آیا۔دیکھا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔اس کے بعد اس نے دوسروں کو دیکھا تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے۔غرض خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو صرف ظاہری فتح ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ ظاہری فتح کے ساتھ قلوب کی فتح بھی عطا کی۔رسول کریم کا بلند ترین مقام پھر قرآن نہ صرف یہ کہ رسول کریم ﷺ کو بے گناہ قرار دیتا ہے بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا انسان قرار دیتا ہے۔فرماتا ہے۔اِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِیم کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارا نبی گنہگار ہے۔اگر دشمن ایسا کہتے ہیں تو وہ سکتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ تو بڑے اعلیٰ اخلاق والا ہے۔پھر فرمایا الم نشرح لك صدرك الم نشرح (۲) اے محمد رسول اللہ ! کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا۔پھر فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاب (٣٣) تمہارے لئے محمد رسول اللہ ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ ہے۔اس کے پیچھے چل کر تم نجات پاسکتے ہو۔پھر اس سے بھی بڑا درجہ آپ کا یہ بیان فرمایا کہ آپ دوسروں کو پاک کرانے والے ہیں۔فرماتا ہے۔كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْنًا وَيُزَكِّيْكُمْ (البقرة: ۱۵۲)۔ہم نے تم میں سے ہی ایک رسول بھیجا ہے جو ہماری آیتیں پڑھ کر تمہیں سنا تا ہے