آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 168
استحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 168 باب سوم میں فتح کے ساتھ ذئب یا استغفار کا ذکر کیا ہے۔یعنی یا تو فتح کے وعدہ کے بعد یا فتح کے ذکر کے بعد۔چار جگہوں میں تو فتح کے وعدہ کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے۔اور ایک جگہ فتح مبین کا ذکر ہے۔اور وہاں لِيَغْفِر کہا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری دعا سنی گئی اور ہم نے عام فتوحات کی بجائے تجھے فتح مبین عطا کی ہے۔تا کہ تیرے ذنب بخشے جائیں۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کسی کو فتح و نصرت کا ملنا کیا گناہ ہے اور ہر جگہ فتح کے ساتھ یہ الفاظ کیوں آئے ہیں۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ استغفار اور ذنب کسی اور قسم کا ہے۔اگر گناہ مراد تو تھا تو چاہئے تھا کہ کسی گناہ کا ذکر کیا جاتا۔مگر ایسا تو ایک جگہ بھی نہیں کیا گیا۔بلکہ بجائے اس کے یہ بتایا کہ ہم تجھے فتح و نصرت دیتے ہیں۔تو استغفار کر۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس کے معنی کچھ اور ہیں۔اور وہ یہ کہ فتح کے ساتھ جو لوگ سلسلہ بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں ان کی تربیت پوری طرح نہیں ہو سکتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے زوال کا وقت اسی دن سے شروع ہو جاتا ہے جب کہ فتوحات شروع ہوتی ہیں اور لوگوں کی تربیت اچھی طرح نہیں ہوسکتی۔جب لاکھوں مسلمان ہو گئے اور وہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے تھے تو ان کی تربیت ناممکن تھی۔اس لئے فرمایا یہ بات بشریت سے بالا ہے کہ اتنے لوگوں کی پوری طرح تربیت کی جا سکے۔ان کی تربیت خدا ہی کر سکتا ہے۔اس لئے دعائیں کر کہ خدایا تو ہی ان کی نیک تربیت کے سامان پیدا فرما اور پھر خوشخبری دی کہ ہم نے تمہاری دعائیں سن لی ہیں۔انا فتحنا لك فتح بنان ليَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَمَ مِنْ ذَنْبَكَ وَمَا نَاخَرَ ہم تجھ کو جو فتح عظیم دیں گے وہ ایسی صورت میں دیں گے کہ وہ فتح مبین ہوگی۔حق و باطل میں تمیز کر دینے والی ہوگی اور صرف جسموں پر ہی نہیں ہوگی بلکہ دلوں پر بھی ہوگی۔لوگ منافقت سے اسلام میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ دین کے شوق کی وجہ سے ہوں گے۔اور یہ فتح ہم نے اس لئے دی ہے کہ تربیت کا پہلو مضبوط ہو جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کر کے تربیت کے پہلو کو مضبوط کر دیا۔اور ایسے نائب آپ کو بخشے جو ہمیشہ کے لئے دین کے محافظ ہو گئے۔دیکھ لو ایک تو وہ وقت تھا کہ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مکہ چھوڑ کر اس لئے بھاگ گیا کہ جہاں محمد (ﷺ) ہو وہاں میں نہیں رہ سکتا۔مگر پھر وہ طاقت آیا کہ وہ مسلمان ہوا اور ایسا مخلص مسلمان ہوا کہ ایک جنگ