آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 167 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 167

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 167 گناہ گار اور استغفار کی حقیقت حضرت مصلح موعود ذنب اور استغفار کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الله پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ گناہگار تھے۔اس کے لئے ذنب اور استغفار کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں۔لیکن عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی نہیں سمجھے استغفار کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ جو مشکلات کسی کے رستہ میں حائل ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے۔اسی طرح ذنب کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کے بھی۔پس غَفَرَ کے معنی ڈھانکنے اور ذنب کے معنی زوائد کے ہیں۔جب رسول کریم ﷺ کے متعلق استغفار کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد آپ کے رستہ کی مشکلات کا دور ہونا ہوتا ہے۔اور جہاں ذنب کا لفظ آتا ہے وہاں زوائد کا دور کیا جانا مراد ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لوسورۃ نساء رکوع ۱۶ میں پہلے جنگ کا ذکر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَكُن لِلْعَابِينَ خَصِيمَ وَاسْتَغْفِرِ الله (النساء ١٠٤٠١٠٢) اے محمد رسول اللہ جب ہم حکومت دیں گے تو کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دین کی باتوں میں خیانت سے کام لیں گے اور بچی کا راستہ اختیار کریں گے۔ان سے لڑنے کی طرف توجہ نہ کرنا۔بلکہ بجائے اس کے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا کہ ان کی یہ کمزوری دور ہو جائے۔(۲) سوره مؤمن رکوع ۶ میں بھی پہلے اِنا تَنصُرُ رُسُلك (المومن ۵۲ ) فرما کر نصرت کا ذکر کیا ہے اور پھر وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبك وسيع بحدِ رَبَّكَ بِالْعَيْنِ وَالْإِبْكَارِ (المؤمن :۵۲ ) میں استغفار اور تسبیح کا حکم دیا ہے۔سورۃ محمد رکوع ۲ میں بھی پہلے ساعت کے آنے کا ذکر ہے یعنی فتح کا اور پھر وَاسْتَغْفِرُ لذنبك (محمد :۲۰) فرماتا ہے (۴) سورہ نصر میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر آتا ہے فَسَبحْ بِحَمْدِ رَيكَ وَاسْتَغْفِرْهُ : (الصر۔٢) (۵) سورۃ فتح میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر غَفَرَ كا فرمايا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مينان لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّم من ذنبك وما تا خر (الح ۳۰) ان سب حوالوں