آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 166 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 166

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 166 باب سوم خدا تعالیٰ کی یہ بات پوری ہوئی ہے وہاں دوسری بات بھی پوری ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائی کہ دوبارہ اسلام زندہ کیا جائے گا۔اور مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ سے اسلام کا سورج پھر وسط آسمان میں چمکے گا۔اور تمام قو میں اسلام میں داخل ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد کے گیت گائیں گی۔پس جس طرح سے عالم الغیب خدا کی باتیں پہلے پوری ہوئی ہیں ، اب بھی پوری ہوں گی۔وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِیز۔روایات میں آتا ہے کہ سورہ نصر کے نزول پر اللہ تعالیٰ کے حکم سَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعائیہ کلمات اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے پڑھا کرتے تھے کہ سُبْحَانَكَ اللهُم وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ الیک ( در منشور) یعنی اے اللہ میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور تیری ذات میں سب خوبیوں کے ہونے کا اقرار کرتا ہوں اور تجھ سے بشری کمزوری پر پردہ پوشی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ یہ دُعابا رہا ر کیوں پڑھتے ہیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قسم کی دُعا کرنے کا ارشادفرمایا ہے اور پھر سورۃ نصر کی آیات پڑھیں۔بہر حال اس روایت سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی امت کے لئے کثرت سے دُعائیں کیں نا آپ کی امت راہ راست پر قائم رہے۔اور جب کبھی اس میں کوئی خرابی پیدا ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے اشخاص کو کھڑا کر دے جو اس خرابی کو دور کر دیں۔اور یہ کہ خود اللہ تعالی امت محمدیہ کی تربیت کا انتظام کرتا رہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائنی گئی اور اس کا نتیجہ جو کچھ نکلا وہ تاریخ کے اوراق بتا رہے ہیں اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا اور جب بھی اسلام کی حفاظت کا سوال پیدا ہو گا اللہ تعالی خود اس کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے گا۔( تفسیر کبیر جلده اصفحه ۲۸۳ تا ۴۹۵)