آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 165
نحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 165 باب سوم تو یہ حالت تھی کہ سمندر پار سے عیسائیوں کے پادری مسلمانوں کے مختلف ممالک میں اسلام پر حملے کر رہے تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہیوں نے اُن کے ممالک میں پہنچ کر اُن پر حملہ شروع کر دیا۔اور یکے بعد دیگرے مخالفین میں سے ہی محمد رسول اللہ 4 صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق پیدا ہونے شروع ہو گئے۔اور اب یہ بات نظر آرہی ہے کہ وہ دن جلد ہی آنے والا ہے جبکہ تمام مغربی اقوام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوں گی اور ایک ہی رسول ہو گا اور ایک ہی شریعت اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو جائے گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو سُنے گا اور بار بار اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قوم پر رجوع کرے گا وہ پوری شان کے ساتھ پورا ہوا ہے اور پورا ہوتا رہے گا کیونکہ اسلام قیامت تک کے لئے ہے اور خدا کے وعدے بھی قیامت تک پورے ہوتے رہیں گے۔انشاء اللہ روایات میں آتا ہے کہ جب سورۃ نصر نازل ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس سے اطلاع دی تو آپ نے فرما یال خرُ جَنَّ مِنْهُ أَفْوَاجًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ أفَوَاجًا ( فتح القدیر ) کہ اب تو اسلام میں لوگ گروہ در گروہ داخل ہو رہے ہیں لیکن ایک وقت ایسا آئے گا۔جبکہ مسلمان گروہ در گروہ اسلام کو خیر باد کہنے لگ جائیں گے اور اسلام کے حلقہ سے نکل جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ سو فی صدی پوری ہوا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں جب عیسائیت نے اسلام پر حملہ کیا۔لوگ کثرت سے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہو گئے تھے۔اور اسی طرح سے دوسری تحریکیں جو اسلام کے خلاف چلیں اُن کا شکا ر ہو گئے تھے۔پس اسلام کا موجودہ تنزل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ اسلام دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔اور اس کے تنزل کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب کہ اسلام کے ماننے والے اس کو خیر باد کہہ دیں گے۔اور گروہ در گروہ اسلام سے نکل کھڑے ہوں گے صرف اور صرف خدائے علام الغیوب کے علم کی بناء پر ہی ہو سکتا تھا۔پس جہاں