آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 164 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 164

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 164 باب سوم جمع ہو گئے۔اور جتنے فتنے اس وقت کھڑے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کی قوت حضرت ابو بکر کو دی گئی۔باوجود اس کے کہ آپ کی طبیعت نرم تھی لیکن آپ نے فتنوں کو دبانے کے لئے جو کام کیا اس کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔پس حضرت ابو بکر کی خلافت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن دعاؤں کے نتیجہ میں تھی جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کیں۔پھر حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کو کھڑا کر دیا۔چونکہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔اور ایرانیوں اور شامیوں کے ساتھ مٹھ بھیڑ ہورہی تھی اس لئے آپ کی وفات کو بے وقت سمجھا گیا۔لیکن حضرت عمر نے خلافت ر متمکن ہوتے ہی ایسی راہنمائی کی کہ مصر، شام، اور فلسطین کے سارے علاقے مسلمانوں کے ماتحت آگئے اور قیصر و کسریٰ کی ساری طاقتیں ختم ہو گئیں۔اور ایک طرف مسلمانوں کی ایک مستحکم سلطنت قائم ہوگئی اور دوسری طرف مسلمان ایک ہاتھ پر ا کٹھے رہے۔اور ان میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی بلکہ آپ کی خلافت میں اسلام کا وہ رعب و دبد بہ قائم ہوا کہ مسلمان بڑے بڑے بادشاہوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا دوسرا اثر حضرت عمرہ کے وجود میں ظاہر ہوا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے وجود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھے۔پھر حضرت عمر بن عبد العزیز اور مجددین اُمت جو مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں اسلام کی حفاظت اور اسلام کی صحیح صورت کو قائم رکھنے کے لئے کھڑے ہوئے سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی بدولت ہی تھے۔اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد جب ایک طرف آپ کے ماننے والے اسلام کو چھوڑ بیٹھے اور اس پر عمل کرنا ترک کر دیا اور دوسری طرف مغربی اقوام نے اسلام پر ہلہ بول دیا اور چاہا کہ اسلام کا نام تک مٹا دیا جائے۔ایسی نازک حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کر دیا اور آپ کے ذریعہ مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت قائم کر دی جو ایک طرف صحیح اسلام کا نمونہ تھی اور دوسری طرف اسلام کے لئے اپنے اموال اور اپنی جانوں کو قربان کرنے والے تھے اور اس طرح اسلام از سر نو زندہ ہو گیا۔چنانچہ کجا