آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 163 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 163

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 163 ہوسکتی ہے اس کے بدنتائج سے بچالے۔إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا : تَابَ کے معنے ہوتے ہیں فضل کے ساتھ رجوع کیا۔اور تو اب مبالغہ کا صیغہ ہے اس لئے اس کے معنے ہوں گے بار بار فضل کے ساتھ رجوع کرنے والا۔کو یا اس حصہ آیت میں اس مضمون کو ادا کیا گیا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! اگر آپ دُعاؤں میں لگ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی دُعاؤں کو ضرور سنے گا۔اور اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قوم پر بار بار رجوع کرے گا۔نبوت ، صد یقیت ، شہید یت اور صالحیت چار روحانی انعام ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔اور بتایا ہے کہ ان انعاموں کا ملنا خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرُّسُولَ فَأُولَكَ مَعَ الَّذِينَ انعم اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْتَ وَالصِّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّلِحِينَ وَحَسُن أو ليك رفيقان ليْكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلَيْنًا (النساء۷۰ ۷۱) یعنی جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہو جائے گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا یعنی نبی صدّیق شہید اور صالح۔اور ان مقامات کا ملنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی بوجہ علیم ہونے کے پوری طرح جانتا ہے کہ کون ان فضلوں کا مورد ہونے کا اہل ہے۔پس انه كانَ تَوَّابًا کے الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جب بھی آپ کی قوم کو حفاظت کی ضرورت ہوگی جب بھی کسی اصلاح کی ضرورت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت اور اصلاح کے ذرائع پیدا کر دے گا۔اور اس خرابی کے مناسب حال شخص پیدا کر دے گا چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا سنی گئی۔اور امت میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہوئی تو اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال شخص کھڑا کر دیا۔چنانچہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت بڑے بڑے صحابہ گھبرا گئے۔بیٹی کہ حضرت عمر جیسا زیر دست شخص بھی گھبرا گیا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کو صد یقیت کے مقام پر کھڑا کر دیا اور تمام مسلمان ایک ہاتھ پر