آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 162 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 162

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 162 باب سوم ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔پس یا درکھیں کہ جب آپ کے پاس بہت سے شاگرد ہو جائیں تو آپ خدا تعالیٰ کے حضورہ گر جائیں اور عرض کریں کہ انہی اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے۔آپ خود ہی ان نو واردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ہم آپ کی دُعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کر دیں گے اور ان کی کمزوریاں اور بدیاں ڈور کر کے ان کو پاک کر دیں گے۔پس قرآن کریم کی وہ آیات جن میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ذنب کے لئے استغفار کرنا چاہئے۔اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ آپ سے کوئی گناہ سر زد ہوا ہے۔اور اس کے لئے آپ کو استغفار کرنا چاہئے بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ فتوحات کی وجہ سے اور اسلام میں لوگوں کے کثرت سے داخل ہونے کی وجہ سے جو تر بیت کا کام بڑھنے والا ہے اور وہ آپ کی طاقتوں سے زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو باحسن وجوہ سرانجام دینے کی طاقت عطا کرے اور اگر اس میں کوئی کمزوری رہ جائے تو اس پر پردہ ڈال دے اور اس کی اصلاح اس طور پر کر دے کہ کوئی برا نتیجہ پیدا نہ ہو۔اور چونکہ یہ تو مسلموں کی تربیت کا کام صحابہ اور صحابیات نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے ماتحت کرنا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ محمد کی آیات میں یہ بھی فرما دیا کہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ آپ کے تحت جو مربی کام کرنے والے ہیں ان کے لئے بھی دعا کر دیں کہ وہ صحیح رنگ میں تربیت کر سکیں۔اور اگر ان کی تربیت میں کوئی نقص رہ جائے تو اس کا بد نتیجہنہ نکلے بلکہ اس کی بھی پردہ پوشی ہو جائے۔خلاصہ کلام یہ کہ سورہ نصر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو است غفیرہ کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ آپ دُعا کریں کہ فتوحات کے نتیجے میں جو خرابیاں امت محمدیہ میں پیدا ہو سکتی ہیں۔اللہ تعالی خود ان کی اصلاح کا انتظام فرمادے۔اور وہ آیات جہاں اِسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ کے الفاظ کہے گئے ہیں ان میں یہ حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ آپ کے زمانہ میں جو فتوحات ہوں گی اور جن کے نتیجہ میں کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوں گے اللہ تعالی آپ کو اُن کی تربیت پوری طرح کرنے کی توفیق دے اور اگر تربیت میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کمی کے نتیجہ میں جو خرابی پیدا