آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 161
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 161 باب سوم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت زیادہ عرصہ نہ رہ سکے تھے۔ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان بھی نہ خراب ہوا اور وہ اسلام جیسی نعمت سے محروم نہ ہوئے۔کو آپ کی وفات پر کچھ لوگ مرید ہوئے مگر جلدی ہی واپس آگئے۔اور ان فسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے پر پاکئے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان کے زمانہ میں جو عظیم الشان فساد ہوا۔اس میں عراق ہمصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہو گئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے۔لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔یہ وہ ملک تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے اُن ملکوں کے لوگوں کی جو آپ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے بُرائیاں اور کمزوریاں دور کر دی تھیں۔لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل نہ ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت تھی۔اور دعا کا اثر تھا کہ شام کے لوگ حضرت عثمان کے خلاف نہیں اُٹھے۔کیونکہ گو یہ ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فتح نہ ہوا لیکن آپ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی جس کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ توبہ میں ان تین صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے آیا ہے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے۔پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہوتا امیر معاویہ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہاں اسلام کا بیج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بویا گیا۔اور اس سرزمین میں آپ نے قدم مبارک ڈالا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے آپ کی دُعاؤں میں اس ملک کو بھی شامل کر لیا۔اس عظیم الشان فتنہ میں اس قدرصحابہ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے۔اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے اور بعد میں تو بہ کر لی تھی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔اس لئے جہاں آپ کی فتح کا ذکر آیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام میں کثرت سے لوگ داخل ہونے والے ہیں وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے جو آپ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ ہم آپ کو غلبہ اور عزت دینے والے ہیں اور بے شمار لوگ آپ کے