آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 160 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 160

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 160 باب سوم علاج ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعامانگیں کہ اے خدا مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ وہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دیدے اور خود ہی ان کو پاک کر دے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم كو اسْتَغْفِرُ لِکنگ کے الفاظ کہہ کر اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم وتربیت کے لئے آپ خدا تعالیٰ سے دُعا کریں اور التجا کریں کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے کی وجہ سے جو بد نتائج نکل سکتے ہیں ان سے آپ ہی بچائیے۔اور اُن کو خود ہی دُور کر دیجئے۔اور یہ ظاہر ہے کہ آپ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں بلکہ بشری کمزوری کا نتیجہ ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے متعلق ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن جناح - اسم یا جرم کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔گناہ اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے۔اور وہ بات جس کی خدا تعالی کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا۔بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے۔مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشر بیت کی وجہ سے اُسے لاحق ہوئی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بنایا ہی ایسا تھا۔اور آپ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی جو آپ کی طاقت سے بالا تھی۔اس لئے آپ کو بتایا گیا کہ ایمان لانے والوں کی کثرت کی وجہ سے جو نقص ان کی تعلیم میں رہ جائے گا اس کے دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں۔پس وہ تمام آیات جن میں آپ کے لئے وَاسْتَغْفِرُ لِنگ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گناہ کا اظہار مقصود نہیں ہے بلکہ بشری کمزوری کے بعد نتائج سے بچنے کی آپ کو راہ بتائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بوجھ جو آپ پر پڑنے والا ہے اور آپ کی طاقت سے زائد ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ اس کو اٹھانے اور ذمہ واری کو پوری طرح سے ادا کرنے کی توفیق ملے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ رسول