آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 158 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 158

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 158 میں داخل ہونے کا راستہ کھل جائے گا۔پس ایسے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کرنا چاہئے۔نہ صرف اپنے لئے بلکہ مومن مر دوں اور مومن عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ تمہارے حالات سے بخوبی واقف ہے۔غرض ان آیات میں بھی پہلے دشمنوں کی تباہی کا ذکر ہے اور پھر مسلمانوں کی کامیابی اور پھر اس کے بعد استغفار کا حکم ہے۔تیسری جگہ جہان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تیرے ذنب پر پردہ ڈال دیا ہے وہ سورۃ فتح کی ابتدائی آیات ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔نا فَتَحْنَا نَكَ فتحا ميدن تَاخَرَ وَسَمْ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمان ويَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزان یعنی اے نبی ! ہم تجھے ایک ایسی گھلی فتح عطا کریں گے۔کہ جس کے بعد ہر ایک پر واضح ہو جائے گا کہ دین اسلام سچا دین ہے اور تم صراط مستقیم پر تھے اور اس فتح کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف تم پر فتح سے پہلے ایمان لانے والوں کو تر بیت ہو کہ ان کے نقائص دُور ہو جائیں گے اور تمہاری بشری کمزوریوں کی وجہ سے ان کی تربیت میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو وہ دور کر دی جائے گی اور فتح کے بعد جو لوگ اسلام میں داخل ہوں گے ان کی تربیت میں اگر تمہاری بشری کمزوریوں کی وجہ سے کوئی نقص رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی دُور کر دے گا اور تمہاری دعاؤں کے نتیجہ میں تم پر نعمت کو مکمل کر دے گا۔یعنی مسلمانوں میں ایسے لوگ بار بار پیدا ہوتے رہیں گے جو اصلاح امت کا کام سر انجام دیں گے اور اس کی خرابیوں کوڈ ورکر کے صحیح مقام پر ان کو قائم رکھیں گے اور دنیاوی لحاظ سے بھی مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔اور اللہ تعالیٰ ان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دے گا جس سے وہ خدا تعالیٰ کے انعامات کے مور د ہوتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ایسی نصرت کرے گا کہ کوئی مانع اور مزاحم نہ ہو سکے گا۔ان آیات میں بھی پہلے فتح ونصرت کا ذکر ہے۔اور دشمنوں کی ہلاکت کی پیشگوئی کی گئی ہے اور اس کے بعد ذنب پر مغفرت کر دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔غرض ان تمام آیات کو دیکھ کر بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے