آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 157
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 157 باب سوم کی برکت سے ارض مقدسہ کے وارث ہو گئے اور خدا کی نعمتیں اُن کو مل گئیں اسی طرح مسلمانوں کو بھی مکمل کتاب ملے گی اور دُنیا پر ظاہری غلبہ بھی حاصل ہو جائے گا۔اور مکہ جو اُن کا مقدس مقام ہے اور جو وہ اس وقت مخالفوں کے قبضہ میں ہے وہ بھی ان کو مل جائے گا۔اس غلبہ کی پیشگوئی کے بعد اللہ تعالی فرماتا ہے فَاصْرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرُ لِلنيك کات رسول ! جلدی نہ کرو کہ یہ غلبہ کا وعدہ کب آئے گا بلکہ صبر سے کام لو۔یقینا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔غرض پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی ہلاکت کی خبر دی اور پھر غلبہ اور فتح مکہ کی خبر دی اور استغفار کا حکم دیا۔دوسری جگہ جہاں استغفار کا حکم ہے وہ سورہ محمد کی یہ آیت ہے۔فَاعْلَم آنه لا إله إلا الله وَاسْتَغْفِرُ لذنبك ولو مِينَ وَالْمُؤْمِنتُ اس سے پہلے یہ آیت ہے۔قبل يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ اَشْرَاعَهَا افراطهَا فَانّى لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذكربهم سورة محمد کا سارا مضمون مخالفین اسلام کی تباہی کے ذکر میں ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھائیں گے اور اسلام کو فتح ہوگی۔اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے۔قبل ينظرُونَ إِلَّا السَّاعَة أَن تَأْتِيَهُمْ بَغْثه كه مخالفين اسلام تو بس اس گھڑی کے منتظر ہیں جس میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا کہ بچا کون ہے اور جھوٹا کون اور اس سے پہلے پہلے اسلام کے دلائل پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور کچھ بیٹھے ہیں کہ ہم اس وقت جب معاملہ کھل جائے گا ایمان لے آئیں گے۔لیکن انہیں یا درکھنا چاہئے کہ فتح مکہ کی گھڑی اچانک آجائے گی۔ہاں یا درکھو اس کے قریب آنے کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں۔پھر جب وہ گھڑی آ پہنچے گی ان کا ایمان لانا ان کو کیا فائدہ دے سکتا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ! یہ امر یا درکھو کہ صرف قادر خدا ایک ہی ہے اس کے اشارے پر ہر ایک چیز حرکت کرتی ہے۔پس جب وقت آجائے گا اللہ تعالی کے فرشتے اتریں گے اور لوگوں کے دلوں کو تمہاری طرف مائل کر دیں گے اور لوگوں کے لئے اسلام