آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 156 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 156

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 156 باب سوم زائد ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے اُٹھانے کی طاقت عطا کر دے۔یا آپ کے بعد آنے والے واقعات کی خرابیوں پر پردہ ڈال دے۔اب ہم سورۃ مومن سورة محمد اور سورۃ فتح کی ان آیات پر جن میں ذنب کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال کیا گیا ہے جب غور کرتے ہیں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔جو ان آیات کے مضمون کو اس طرح حل کر دیتی ہے کہ سب اعتراض دُور ہو جاتے ہیں۔اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔چنانچہ پہلا مقام سورۃ مومن کا ہے اور یہ سورۃ مکی ہے اور اس میں آتا ہے کہ فاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرُ لِلنكد یعنی اے رسول اللہ ! آپ دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر کریں اور اُس دن کا انتظار کریں جب آپ کا غلبہ ہوگا اور یہ ایذا دینے والے شرمندہ ہوں گے اور یہ یا درکھیں کہ یہ غلبہ کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا اور مکہ بھی آپ کو ملے گا اور آپ اپنے ذنب کے لئے استغفار کریں۔اس آیت سے پہلے مندرجہ ذیل آیات ہیں۔إِنَّا لتنصُرُ رُسُكَ وَالَّذِينَ امَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَدَ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ، وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى وَأَوْرَثَنَا بَنِي إسْرَاءِيْلَ الْكِتَبَ هُدًى وَ ذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (المومن:۵۰-۵۵) یہ آیات مکہ میں نازل ہوئی تھیں۔جب مسلمان بہت تکلیف اور دُکھ میں تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! گھبراؤ نہیں اور یا درکھو کہ ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں کی جو اُن پر ایمان لاتے ہیں اس دُنیا میں مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی ہم ان کی مدد کریں گے جب فیصلہ کے لئے گواہ اپنی گواہیاں دینے کے لئے آ کھڑے ہوں گے۔وہ ایسا دن ہوگا جبکہ نافرمانوں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے خدا سے ڈوری ہوگی اور انہیں رہنے کو بہت بُرا گھر ملے گا۔یاد رکھو ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو تورات کا وارث کیا جس میں لوگوں کے لئے ہدایت اور نصیحت تھی۔یعنی جس طرح بنی اسرائیل تورات