آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 155
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 155 اللہ تعالیٰ سورۃ مومن میں فرماتا ہے۔فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَ اسْتَغْفِرُ لِذنبك وسبح بحمد ربك بالعَشِي وَالْإِنكار (المومن (٥٢) سورۃ محمد میں یوں آیا ہے۔فاعلم أنه لا إله إلا الله وَاسْتَغْفِرُ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَت وَاللهُ يَعْلَمُ متلبكُمْ وَمَثوبكم (محمد (۲۰) - تیسری آیت جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ سورۃ فتح کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انا فتحنَا لَكَ فَتْحًا مُبِين لَيَغْفِرَ لَك الله مَا تَقَدَّم مِن ذَنْبِكَ وَمَا نَاخَرَ وَيُيم نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ الله سراطا مستقيما (الح ) صِرًا ان آیات میں اور سورۃ محمد اور مومن کی آیات میں لفظ ذنب کے استعمال میں ایک اور صلی فرق ہے اور وہ یہ کہ سورۃ محمد اور مومن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ استغفر اسْتَغْفِرُ لینیک یعنی اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔اور سورۃ فتح کی آیات میں غفر کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی گئی ہے اور فرمایا ہے ليغفر لك الله ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَاتَا خَرَ ہے؟ وَلَكَ کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے پہلے اور پچھلے ذنب پر مغفرت کر دی ہے۔ان آیات کے حل کے لئے سب سے پہلے ہم لغت کی طرف توجہ کرتے ہیں۔لغت میں غفر کے معنے ڈھانکنے کے ہیں۔اور ذنبه ذنبا کے معنے ہوتے ہیں۔تلاهُ فَلَمْ يُفَارِقُ اثرہ کے اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اس کی اتباع اور قدم بقدم چلنے کو ترک نہ کیا۔اور ذنب العمامة کے معنے ہوتے ہیں۔اَفْضَلَ مِنْهَا شَيْاً وَأَرْخَاهُ۔کہ پگڑی باندھتے وقت اس کا ایک زائد حصہ جو سر پر لپیٹا نہ جا سکتا تھا اس کو لٹکا دیا (اقرب ) پس ذنب کے معنے ہوئے پیچھے آنا یا زائد چیز۔اور نغفر ذنب کے معنے ہوئے زائد چیز کا ڈھانپ دینا یا پیچھے آنے والے واقعات کی خرابیوں کا ڈھانپ دینا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ذنب کے لئے استغفار کرنے سے مراد یہ ہوگی کہ آپ یہ دُعا کریں کہ نبوت کے کام کے وہ بوجھ جو بشری طاقت سے