آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 154
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 154 باب سوم چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے استیصال کے لئے اور امت کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد کھڑا کر دیا۔اور آپ کے ذریعہ اسلام کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا کہ کجا وہ حالت کہ وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا تھا اور مسلمان اسلام کو چھوڑ رہے تھے۔اور کجا یہ حالت پیدا ہوگئی کہ تمام مذاہب میدان سے بھاگ گئے اور اسلام عیسائیت پر حملہ آور ہو گیا اور غیر مذاہب کے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے اور وہ دن دور نہیں جبکہ ہر شخص اسلام کے مادی غلبہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اسلام کا ضعف اس کی طاقت میں تبدیل ہو جائے گا۔پس یہ سب کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار اور دعا کا نتیجہ ہے۔اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جن آیات میں استغفار کے ساتھ ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے کیونکہ ذنب کے معنے لغت میں مجرم کے لکھے ہیں۔اور اس لحاظ سے اِسْتَغْفِرُ لِنک کے معنے یہ بنیں گے کہ اے محمد رسول اللہ! اپنے مُجرم کے لئے آپ استغفار کریں۔اس بارے میں یہ یادرکھنا چاہئے کہ جیسا کہ اس آیت کی تفسیر کے شروع میں اصولی طور پر لکھا جاچکا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم الشان انسان ہیں جن کی اتباع سے انسان خدا سے ملتا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے اور پھر یہ کہ آپ دنیا کے لئے نمونہ ہیں اور آپ کے اقوال وافعال خدا کے اقوال وافعال ہیں۔پس آپ کے متعلق یہ تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ قرآن کریم نے کہیں یہ کہا ہو کہ آپ گناہ گار ہیں۔کیونکہ آپ تو دُنیا کو گناہ سے چھڑانے کے لئے آئے تھے۔اگر آپ خود ہی گناہ گار تھے تو دنیا کو گناہ سے کیسے آزاد کروا سکتے تھے پس وہ آیات جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے قرآن کریم کے بیان کی روشنی میں یہ نہیں کئے جاسکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گناہ کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا تھا بلکہ اس کے اور ہی معنے ہیں۔اب ان معنوں کو معلوم کرنے کے لئے ہم ان آیات پر یکجائی نظر کرتے ہیں جن میں ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ وہ آیات حسب ذیل ہیں:۔