آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 153
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 158 باب سوم آپ دنیا میں رہے آپ نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا اور تربیت اور تزکیہ نفوس کا کام کرتے رہے۔لیکن جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے تو آپ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ خود امت محمدیہ کا کفیل ہو جائے گا۔ایسی صورت میں آپ کو فکر کی کیا ضرورت ہے۔ہاں آپ وہ کام کریں جو آپ کی استطاعت میں ہے اور وہ یہ کہ آپ دُعاؤں میں لگ جائیں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی حفاظت کرے اور ان کی نصرت کرتا رہے بلکہ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کی بھی خود ہی تربیت کا سامان کرے اور ایسی صورت پیدا کر دے کہ تمام مسلمان ٹھو کر اور غلطیوں سے بچتے رہیں۔اور اگر کبھی کوئی رخنہ پیدا بھی ہو تو اس کی اصلاح کا سامان خدا تعالیٰ پیدا کرتا ر ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات کے لئے استغفار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔بلکہ اپنی امت کے لوگوں کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ دُعا کریں کہ وہ آپ کی امت کی حفاظت فرمائے اور ان میں کوئی روحانی طور پر رخنہ نہ پڑے۔اور اگر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس کی اصلاح کا سامان پیدا ہو جائے۔چنانچہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے مطابق دعا کرنی شروع کر دی اور واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دُعا کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کی وفات کے بعد جس قدر فتنے پیدا ہوئے ان کی اصلاح کر دی گئی اور آئندہ ایسا انتظام کر دیا گیا کہ ہر فتنے کے پیدا ہونے پر اس کی اصلاح ہو جائے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی وفات پر جب بعض قبائل عرب مرند ہو گئے اور بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کا ایسا سد باب کیا جس کی نظیر مانی مشکل ہے اور پھر سے اسلام کی شکل میں قائم ہو گیا۔اگر اس وقت اس فتنہ کو دبایا نہ جاتا تو اسلام کی صحیح شکل کا قائم رہنا مشکل امر تھا۔اسی طرح اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں جب کثرت سے عیسائی لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اپنے ساتھ حیات مسیح اور مسیح کے بے گناہ ہونے اور باقی تمام انسانوں کے (جن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آجاتے ہیں ) خطا کار ہونے کا عقیدہ بھی لے آئے اور وہ اتنا پھیلا کہ اس غلط نہی کی وجہ سے عیسائیت کو اسلام پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمان اسلام کو