آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 152 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 152

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 152 معنے میں تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کونسے معنے ہیں جن کو ادا کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔سو جانا چاہئے کہ زیر تفسیر سورۃ کی ابتدائی دو آیات میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مسلمانوں کی نصرت کا سلسلہ جاری رہے گا اور فتوحات کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔اور قو میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح برکت پائیں گی جس طرح آپ کی زندگی میں لوگوں نے برکت پائی تھی۔کو یا ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ آئندہ زمانہ میں ہزاروں ہزار لوگ اسلام میں ایک وقت میں داخل ہوا کریں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور بُرائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش وعشرت کے جذبات اپنے اندر لے لیتی ہے اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے۔اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو اخلاقی طور پر نفع پہنچانے کے خود اس کے بد اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطر ناک ہوتا ہے۔اور در حقیقت جس وقت کوئی قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کا بھی ہوتا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان فتوحات کی خبر کو معلوم کر کے طبعی طور پر متفکر ہو سکتے تھے کہ ان فتوحات کے ساتھ ساتھ کہیں مسلمانوں میں انحطاط تو شروع نہ ہو جائے گا اور وہ لوگ جو اسلام میں نئے داخل ہوں گے ان کی پوری طرح تربیت کا کیا سامان ہوگا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل استاد اور نفوس کا تزکیہ کرنے والا اور کامل را ہنما ان کو میٹر نہ ہوگا۔پس ان خیالات کے جواب کے طور پر اللہ تعالی نے اِستَغفِرہ کے الفاظ نازل فرمائے اور بتایا کہ اے محمد رسول اللہ ! جب تک