آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 151
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 151 باب سوم دُنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آئے تھے۔اور اس دُنیا میں اِس لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ نا گمراہ اور بے دین لوگوں کو با خدا انسان بنا ئیں اور تا گنا ہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک وصاف کریں۔اور آپ کا درجہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔قلات كنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُجيكُم الله ( آل عمران :۳۲) اے ہمارے رسول ! تم یہ بات لوگوں کو اچھی طرح سنا دو کہ اگر وہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں تو اُن کو چاہئے کہ وہ تیری اتباع کریں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور محبوب بن جائیں گے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے تقذكَانَ لَكُمْ فِي رَسُول الله أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب (۲۲) کہ اے مسلمانوں ! اس رسول میں تمہارے لئے ایک نیک نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بنا چاہتے ہو اور اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات و سکنات کی پیروی کرو۔کیونکہ آپ کے اقوال و افعال ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے آپ کے متعلق وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَهَيتَ ولكن الله رفی (الانفال: ۱۸) کہہ کر آپ کے کنکر پھینکنے واللہ تعالی کا کنکر پھینکنا قراردیا الا پوځی ہے۔پھر آپ کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يولى (النجم:۵،۴ ) یعنی یہ نبی اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ وہی بات کہتا ہے جو خدا تعالیٰ اس کو بذریعہ وحی حکم دیتا ہے۔پس وہ شخص جس کی اتباع سے انسان خدا سے ملتا ہی نہیں بلکہ اس کا محبوب بن جاتا ہے۔اور وہ شخص جو دنیا کے لئے ایک نمونہ تھا اور جس کے اقوال وافعال خدا کے اقوال وافعال تھے اس کا استغفاران معنوں میں نہیں ہو سکتا کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا اور اُس نے یہ دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس گناہ کی سزا سے بچالے۔کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ اگر وہ بھی گناہ کا مرتکب ہو سکتا تھا تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کا کیوں حکم دیا اور اُسے دنیا کے لئے نمونہ کیوں قرار دیا؟ پس آپ کو نمونہ قرار دینے کے معنے ہی یہ ہیں کہ آپ ہر ایک بدی اور گناہ سے پاک تھے۔گویا آپ کا استغفار گناہوں کی سزا سے بچنے کے لئے نہ تھا بلکہ کسی اور