آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 150 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 150

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 150 باب سوم مفہوم ہوتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرتے ہوئے اگر کوئی امر نظر انداز ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا ازالہ کردے۔سورہ نصر کی زیر تغییر آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے۔کہ اے ہمارے رسول ! اِسْتَغْفِرُهُ - اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔اسی طرح قرآن کریم میں بعض مقامات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغْفِرْ لِذَنْبِكَ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔ایسے مقامات کو پڑھتے وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ استغفار کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کیا ان معنوں میں کہ آپ سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا اور پھر آپ کو حکم ہوا کہ آپ اس کی سزا سے بچائے جانے کی دُعا کریں یا کسی اور معنے میں؟ عیسائی صاحبان بھی ہمیشہ اس قسم کی آیات کو لے کر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے مسلمانوں پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں کہ دیکھو تمہارا رسول گناہ گار تھا تبھی تو ان کو استغفار کا حکم دیا گیا۔اور اس کے بعد وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ مسیح علیہ السلام کے لئے کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہوا اس لئے وہ گنا ہوں سے پاک تھے۔اِس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی۔اور کو انہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔اور یہی وجہ تھی کہ ہزارہا مسلمان عیسائی بن گئے۔اور تو اور سادات میں سے بھی بعض نے بپتسمہ لے لیا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ استغفار کے استعمال سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اور بجائے اس کے کہ مسلمان عیسائیوں کو جواب دیتے وہ خودان کے دھوکہ میں آگئے۔ان آیات کو جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے حل کرنے کے لئے یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم