آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 149
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 149 باب سوم سے آپ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت الزام قائم کرتے ہیں۔ان میں یقینی طور پر بلحاظ عربی بول چال کے اعتراض ہوہی نہیں سکتا۔مثلا سوچو آیت وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ میں ہم کہتے ہیں۔وللمؤمنين والا وا و علف تغیری کا واؤ ہے۔اور وا و تفسیری خود قرآن میں موجود ہے۔دیکھوسورۃ رعد۔تلك أيت الكتبِ، وَالَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقِّ (الرعد (٢) ينك أَيتُ الكِتَبِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ (الحجر:۲) تِلْكَ فصل الخطاب حصہ اول طبع دوم صفحہ ۷ ۱۶۸۰۱۹) ☆ استغفار کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو استغفار کا حکم دیا ہے۔اس پر معاندین آپ کے گناہ گار ہونے کا اعتراض کرتے ہیں۔اس اعتراض کا جواب اور آپ کے استغفار کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود شورۃ النصر کی تفسیر میں فرماتے ہیں: استغفار کا لفظ غفر سے نکلا ہے اور جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے غفر کے معنے ڈھانکنے یا حفاظت کرنے کے ہیں۔اور استغفار کے معنے ہیں حفاظت کے لئے دُعا یا طلب حفاظت - گویا استغفار کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے کہ وہ اس کو اپنی حفاظت میں لے لے اور اس کی بشریت کی کمزوریاں ظاہر نہ ہوں۔یا یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں اس طور پر آجائے کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔قرآن کریم نے استغفار کے معنے میں وسعت پیدا کرتے ہوئے اس کو ان معنوں میں بھی استعمال کیا ہے کہ جو گناہ انسان سے صادر ہو چکے ہوں ان کے بعد نتائج اور ان کی سزا سے بچنے کے لئے اللہ تعالی کی حفاظت طلب کی جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ لفظ اس مفہوم میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔اور یہ ادنی لوگوں کی لئے ہے۔کامل لوگوں کے لئے اس کا یہی