آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 148
148 ☆ انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات ایک عیسائی کے اعتراض وَاسْتَغْفِرُ لِنكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ اور اس کے امثال سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گنہگار ہونا ثابت ہوتا ہے" کے جواب میں حضرت حکیم مولانا نورالدین نے فرمایا: پھر کیا ہوا۔سوچو تو سہی۔میسیج ملعون بنیں اور ان کی الوہیت اور خدائی میں قمہ نہ لگے بایں ہمہ گنہگار کے تمام عیسائیوں کے معاصی سے گنہگار ہوئے اور بقول عیوب عورت کے شکم سے نکل کر صادق نہیں ٹھہر سکتے تھے۔دیکھو ایوب وہ جو عورت سے پیدا ہوا کیا ہے کہ صادق ٹھہرے۔(۱۵ باب ۱۴ ایوب ) پھر مریم جب بگناہ موروثی آدم گنہ گار تھی تو مسیح کو کوئی پاک نہیں ٹھہر اسکتا۔کون ہے جو ناپاک سے پاک نکالے۔کوئی نہیں۔(ایوب ۱۴ باب ۴ ) اور پھر عیسائیوں میں تمام آدمی کے گناہ سے گنہگار ہیں اور آدم کا گناہ عورت سے شروع ہوا تو مریم اور اس کا بیٹا کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ پس گنبگارا گر الوہیت سے معزول نہیں تو گنہ گار نہلات اور رسالت سے کیسے معزول ہو سکتا ہے۔اور سنو ! کتب مقدسہ کا محاورہ ہے۔مورد اعلیٰ کا نام لے کر قوم کو مخاطب کیا جاتا ہے۔دیکھو پیترون (یعقوب ) موٹا ہوا۔اور اُس نے لات ماری۔تو تو موٹا ہو گیا۔چہ بی میں چھپ گیا۔خالق کو چھوڑ دیا (استثناء ۳۲ باب ۹-۱۰) یعقوب کو جیسی اس کی روشیں ہیں۔سزا دے گا۔اباب ۲ ہو شیع۔یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتاؤں (میکہ ۳ باب (۸) یہ تو عبید متقیق کا محاورہ سنایا۔اب عہد جدید کوسنئے اس نے تو حد کر دی سنو !سنو !سنو! مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلہ سے لعنت ہوا۔(نامہ گلالئیاں ۳ باب ۲۰۱۳ - قرنتی ۵ باب ۲۱) پس میں کہتا ہوں جب صاحب قوم قوم کے گناہ سے گنہ گار کہا جاتا ہے۔اور جب قوم کو صاحب قوم کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے تو آپ نے ان آیات میں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گنہگار ہونا ثابت کرتے ہیں اس امر کو کیوں فروگزاشت کئے دیتے ہیں بائیں ہمہ جن آیات