آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 147
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 147 اس میں صاف فرمایا ہے، تو استغفار کر۔اس سے کیا مراد ہے؟ اس سے یہی مراد ہے کہ تبلیغ کا جو عظیم الشان کام تیرے سپرد تھا دقائق تبلیغ کا پورا پورا علم تو اللہ تعالی ہی کو ہے اس لئے اگر اس میں کوئی کمی رہی ہو تو اللہ تعالی اسے معاف کر دے۔سیاستغفارتو نبیوں اور راستبازوں کی جان بخش اور عزیز چیز ہے۔اب اس پر نا دان اور کوتاہ اندیش عیسائی اعتراض کرتے ہیں۔جہاں استغفار کا لفظ انہوں نے سن لیا جھٹ اعتراض کر دیا حالانکہ اپنے گھر میں دیکھیں تو مسیح کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہہ۔اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشا یہ تھا کہ مجھے خدا کہے۔یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا ان کے بھائی خدا کہتے تھے جو وہ یہی آرزو اس شخص سے رکھتے تھے کہ وہ بھی خدا کہے۔انہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔وہ بھی استاد استاد ہی کہا کرتے تھے۔پھر یہ آرزو اس غریب سے کیو نکمران کو ہوئی۔کیا وہ خوش ہوتے تھے کہ کوئی انہیں خدا کہے یہ بالکل غلط ہے ان کو نہ کسی نے استاد "خدا"۔مرتب ) کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔پھر ایک اور توجیہ کرتے ہیں کہ دراصل وہ شخص منافق تھا۔اس لئے حضرت مسیح کو یا خفا ہوئے کہ ٹو نیک کیوں کہتا ہے کیونکہ تو مجھے نہیں جانتا۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے۔کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ منافق تھا۔غرض اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اپنی عبودیت کا اعتراف کرتے رہتے ہیں اور دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔احمق ان باتوں کو عیب سمجھتے ہیں۔اگر آنحضرت کی دعاؤں کو دیکھا جاوے تو پھر ایسے احمق اعتراض کرنے والے تو خدا جانے کیا کیا کہیں۔جیسے: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ (ترجمہ: اے اللہ میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اسی طرح بعد اور دوری پیدا فرما دے جس طرح مشرق اور مغرب کے درمیان تو نے بعد پیدا فرمایا ہے۔مرتب) ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۳۱۶۳۱۵ایڈیشن ۲۰۰۳ء)