آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 146 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 146

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 146 باب سوم پڑھنے والے نے دوبارہ اعتراض کیوں پیش کر دیا کیا اس کو خدائی فیصلہ سے تسلی نہ ہوئی اور اگر ہم لیکھرام کا یہ مباہلہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں درج کر چکے ہیں مگر پھر بھی آریہ صاحبوں کی خاطر سے اس جگہ بھی درج کر دیتے ہیں اور ہم اُن کو متنبہ کرتے ہیں کہ پوتر اور پاک کی یہ نشانی ہے جو خدا کی گواہی سے اُس کا پاک ہونا ثابت ہو نہ صرف دھوئی۔جیسا کہ وید کے رشیوں کے بارے میں کیا جاتا ہے بھلا بتلاؤ کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے؟ کہ وید کے رشی پوتر تھے کونسی خدا نے گواہی اُن کے پوتر ہونے کے بارے میں دی ہے اُن کی گندی تعلیمیں نیوگ وغیرہ صاف بتلا رہی ہیں کہ انہوں نے پاک راہ کی طرف ہدایت نہیں کی پھر وہ آپ کیونکر پاک اور پوتر ٹھہر سکتے ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد نمبر ۲۳ صفحہ ۷۶ اتا ۱۷۷) آپ کے استغفار پر اعتراض کی حقیقت ۳ را گست ۱۹۰۳ء شام کی مجلس میں سلسلہ کلام اس امر سے شروع ہوا کہ تمام نبیوں اور راستبازوں کے کلام میں عجز و انکسار کے الفاظ اور اپنی کمزوری کا اظہار پایا جاتا ہے۔اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔حضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اشتہار متعلقہ زلزلہ میں اس قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے اعتراض کیا ہے۔اعلیٰ حضرت نے میرے معزز بھائی مفتی محمد صادق صاحب کو غالبا بائیل میں ایسے مقامات دیکھنے کے لئے ارشاد فرمایا تھا۔اس کا ذکر مفتی صاحب نے کیا۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا: اس قسم کے الفاظ تمام نبیوں کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں چونکہ ان کی معرفت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مقام کو شناخت کرتے ہیں۔اس لئے نہایت انکسار اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔نادان جن کو اس مقام کی خبر نہیں ہے وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ان کی کمال معرفت کا نشان ہوتا ہے۔آنحضرت کے لئے إذَا جَاءَ نَصَرَ اللهِ وَالْفَتْحُثُ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًان فسبح بحمد ريك واستغْفِره انه كان توابع (النصر : ۲۲) آیا ہے۔نو