آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 145
استحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 145 پاک اور پوتر نہ ہونے کا الزام پنڈت لیکھرام پشاوری نے آنحضور کی ذات پر الزام لگایا کہ آپ پاک اور پوتر نہ تھے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چشمہ معرفت میں تحریر فرماتے ہیں: اور اگر کسی نا دان دشمن کی اب بھی تسلی نہ ہو تو ہم ایک تا زہ ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پوتر اور پاک ہونے کا لکھتے ہیں جس پرلیکھر ام آریہ نے اپنے مارے جانے سے مہر لگا دی ہے واضح ہو کہ مضمون پڑھنے والے نے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے ہیں وہ صرف آنکھیں بند کر کے پکھرام کی کتابوں میں سے لکھے ہیں اور یہ کھر ام کا ہی دعوی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوٹر اور پاک نہیں تھی۔اور اس کے نزدیک ویدوں کے رشیوں کی زندگی پاک تھی۔اسی نفسانی خیال کی وجہ سے وہ قادیان میں آیا میں نے اس کو سمجھایا کہ خدا کے پاک نبی پر حملہ کرنا اچھا نہیں مگر وہ خدا کی عظمت اور قدرت کا منکر تھا اس کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں تھی کہ خدا سے ڈرے اور راہ راست کو انصاف کے ساتھ دیکھے اور اُس کی شوخی حد سے بڑھ گئی تھی اور بھر بھٹھے اور جنسی اور گالی کے کوئی اس کا شیوہ نہ تھا آخر میں نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا یعنی اس بات کے لئے کہ وہ بجائے خود اور میں بجائے خود دعا کروں کہ خدا جھوٹے کو ہلاک کرے اور اس طرح پر مجھ میں اور اس میں فیصلہ کر دے۔پس بد دعا کے وقت مجھ کو خدا نے اس کی نسبت بشارت دے دی کہ وہ چھ برس کے اند قتل کے ذریعہ سے جواناں مرگ مرے گا اور عید کے بعد جو دن آتا ہے اس میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ایسا ہی لیکھرام نے میرے مقابل پر اپنا مباہلہ چھپوا دیا یعنی یہ دعا کہ بچے کے حق میں خدا فیصلہ کرے اور جھوٹے پر اپنا قہر نازل کرے یہ دعا اس نے اپنی کتاب میں ابو جہل کی طرح بڑے درد دل سے لکھی ہے اور خدا سے فیصلہ چاہا ہے پس خدا نے اُس کے قتل کئے جانے سے یہ فیصلہ کر دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں جھوٹا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت پوتر اور پاک اور صادق ہیں اور نیز یہ کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم صحیح نہیں ہے پھر نہ معلوم کہ اس خدائی فیصلہ کے بعد مضمون