آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 140
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 140 باب دوم مرنے کے بعد کیا معلوم جنت ملے گی یا نہیں۔قرآن اسی دنیا میں جنت کا ثبوت پیش کرتا ہے اور مومنوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے۔اس کا ثبوت یہ دیا کہ: ونَ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلَ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ أَلا تَخَافُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة : ٣١) یعنی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہیں۔ان پر فرشتے اترتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ تم غم نہ کرو تم کو جنت کی بشارت ہو۔کو یا اسی دنیا میں انہیں خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور جب خدا کا کلام مل گیا تو ریب کہاں رہ گیا۔قرآن کریم کے ذریعہ صفت رب العالمین کا ظہور پانچویں بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم کا اس حالت میں نزول ہوا کہ اس سے رب العالمین کی صفت کا ظہور ہوتا ہے۔اس لئے کہ اس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔بعض انسانوں میں خصہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انہیں عفو کی طرف توجہ دلائی جائے۔بعض میں دیوئی اور بے غیرتی ہوئی انہیں غیرت کی تعلیم دی گئی۔انجیل نے اس کا خیال نہیں رکھا اس نے ہر حال میں عفو کی تعلیم دی ہے اور تورات نے عضو کا خیال نہیں رکھا اور ہر حالت میں سزا دینے پر زور دیا ہے۔مگر قرآن نے دونوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔پھر زمانہ کا خیال رکھا ہے اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے۔چنانچہ فرمایا:۔قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِلى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس قرآن کریم سے پہلے کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے ساری دنیا کو دعوت دی ہو۔انہوں نے دوسری قوموں کے لئے رہتے بند کر دیئے۔حضرت مسیح کا انجیل میں یہ قول موجود ہے کہ : میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔" -