آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 139 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 139

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات کوس چلا جا۔“ مگر قرآن کریم نے کہا ہے: 139 باب دوم وَجَزَ و سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ انَّهُ (الشوری:۴۱) انه لا يُحِبُّ الفلبين یعنی شرارت کے مطابق بدی کا بدلہ تو لے لینا جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس میں دوسروں کی اصلاح مد نظر رکھے اللہ تعالیٰ اسے خود اجر دے گا۔اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا تو رات نے ایک حصہ تو بیان کیا تھا اور دوسرا چھوڑ دیا تھا اور انجیل نے دوسرا حصہ بیان کیا تھا اور پہلا حصہ چھوڑ دیا۔قرآن کریم نے اس تعلیم کو مکمل کر دیا۔فرمایا بدی کا بدلہ لے لینا جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے ایسی صورت میں کہ بدی نہ بڑھے اس کا اجر اللہ پر ہے۔ہاں جو ایسے طور پر معاف کرے کہ معافی دینے پر ظلم بڑھ جائے تو اس سے خدا ناراض ہوگا کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔صدقہ وخیرات اور مرد عورت کے تعلقات کے متعلق تفصیلی احکام گزشتہ سال کے مضمون میں بیان کر چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ پہلی کتب میں ان امور کے متعلق صرف مختصر احکام دیئے گئے ہیں۔مگر قرآن کریم نے ہر ایک حکم کی غرض اور اس کے استعمال کی حدود وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔دلائل و براہیں سے مزین کلام قرآن کریم کی چوتھی خصوصیت یہ بیان کی کہ لا ریب فیہ ہر ایک امر کو دلیل سے بیان کرتا ہے اور شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔شک ہمیشہ ابہام سے پیدا ہوتا ہے مگر قرآن کریم کے دعووں کی بنیا د مشاہدہ پر ہے۔قرآن میں بستی باری تعالی، ملائکہ، دعا، نبوت، انبیاء کی ضرورت، قضاء وقدر، حشر و نشر ، جنت و دوزخ ، نماز و روزه، حج و زکوۃ اور معاملات وغیرہ کے متعلق دلائل بیان کئے گئے ہیں یونہی دعوے نہیں کئے گئے۔مثلاً جنت کے متعلق آتا ہے۔وَلِمَنْ خَاف مَقَامَ رَبِّهِ جَان۔ہم یہ نہیں کہتے کہ مرنے کے بعد تمہیں جنت ملے گی اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ