آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 138 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 138

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 138 باب دوم وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَشَا ( البف ۵۵) ہم نے اس قرآن میں ہر ضروری بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کر دیا ہے۔تیسری بات حضرت مسیح نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ خدا تعالی جو کچھ بتائے گا اسے پیش کرے گا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى تولى (لم :۵۴) (النجم: یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خدا ہی کا کلام پیش کرتا ہے۔باقی سب کتابوں میں انبیاء کی اپنی باتیں بھی ہیں صرف قرآن ہی ایک ایسا کلام ہے جو سارے کا سارا خدا کا کلام ہے۔پانچویں بات حضرت مسیح نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نبی ان الزامات کو دور کرے گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح کو نعوذباللہ وَلَدُ الزَّنَا کہا گیا تھا اور لعنتی قرار دیا گیا تھا۔قرآن نے ان الزامات کی پوری تردید کی۔کتب سماویہ کی تفصیل اب میں تیسری بات بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کتب سماویہ کی تشریح اور تفصیل بیان کرنے والا ہے۔اس میں علوم روحانیہ کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور انہیں کمال تک پہنچایا گیا ہے۔میں اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں تو رات میں لکھا تھا: " تیری آنکی مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان ، آنکھ کا بدلہ آنکھ ، دانت کا بدلہ دانت، ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا۔" اور انجیل میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ : " تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔لیکن تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔اور اگر کوئی مجھ پر نالش کر کے تیرا گر نہ لینا چاہے تو چوندہ بھی اسے لے لینے دے۔اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لے جائے اس کے ساتھ دو