آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 137
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات حفیضیاہ کہلائے گی۔“ 187 باب دوم یہ پیشگوئی بھی اسلام کے متعلق ہی ہے۔چنانچہ مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔من دَخَلَهُ كانَ آمِناً جو اس میں داخل ہو وہ ان میں آجاتا ہے۔پھر حضرت مسیح کہتے ہیں: " مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں۔مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔" اب دیکھو اس میں کتنی علامتیں رسول کریم ﷺ کی بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ آنے والا نبی ایسی تعلیم دے گا جو سیح تک کسی نے نہیں دی۔گویا وہ سب سے بڑھ کر تعلیم دے گا۔(۲) وہ ساری باتیں کہے گا یعنی کامل تعلیم دے گا۔اور اس کے بعد اور کوئی اس سے بڑھ کر تعلیم نہیں لائے گا۔الله (۳) وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا بلکہ کلام اللہ لائے گا۔(۴) اس کلام اللہ میں آئندہ کی خبریں ہوں گی۔(۵) وہ کلام مجھے ( یعنی مسیح) پر دشمنوں کے عائد کر دہ الزامات کو دور کرے گا۔یہ سب باتیں رسول کریم ﷺ پر صادق آتی ہیں۔پہلی بات حضرت مسیح نے یہ فرمائی تھی کہ وہ نبی ایسی تعلیم لائے گا جو پہلے کوئی نہیں لایا۔قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے: علم الإنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (العلق (۲) یعنی قرآن کریم کے ذریعہ وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں جو کسی اور کو معلوم نہیں۔دوسری بات حضرت مسیح نے یہ بیان کی تھی کہ وہ ساری باتیں بتائے گا۔قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے۔الیوم اکملت لكم بينكه (المائده (۴) آج سارا دین تم پر مکمل کر دیا گیا ہے۔پھر سورۃ کہف رکوع ۸ میں آتا ہے۔