آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 136
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 136 باب دوم ہویا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔“ اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس طرح بچی نکلیں۔کفار نے جب رسول کریم ﷺ کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہم اسے اولا د یں گے اور ابتر کہنے والوں کی اولاد ہی چھین کر دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے۔چنانچہ یوحنا بابا آیت ۲۱ میں لکھا ہے:۔انہوں نے اس سے پوچھا۔پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیا ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔“ اسی طرح اعمال باب ۳ میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت اول کے بعد ظاہر ہو گا۔بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ: سمو عیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے۔“ یہ پیشگوئی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ پوری ہوئی کیونکہ آپ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے تھے۔اسی طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں: تب قو میں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے۔اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کا منہ خو در رکھ دے گا۔“ سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس کا نام خدا تعالیٰ نے رکھا ہو۔چنانچہ اسلام کے متعلق ہی فرمایا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسلام ديناً - دوسری پیشگوئی اس کے ساتھ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ: " تو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گی اور تیری سر زمین کا کبھی پھر خرا بہ نام نہ ہوگا۔بلکہ تو