آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 135 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 135

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 185 باب دوم ان کے نز دیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی۔بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا۔حضرت عمر نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھیجو اؤ۔جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں۔جب لبید نے دوسرا مصرع پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت ضائع ہونے والی ہے تو عثمان نے کہا یہ غلط ہے۔جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوں گی۔یہ سن کر اسے طیش آ گیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا تم نے بڑی بینک کرائی ہے۔اس پر ایک شخص نے عثمان کو برا بھلا کہا اور اس زور سے مکا تم مارا کہ ان کی آنکھ نکل گئی۔ولید کھڑا دیکھ رہا تھا اس نے کہا دیکھا میری پناہ سے نکل جانے کا یہ نتیجہ ہوا۔اب بھی پناہ میں آجاؤ۔حضرت عثمان نے کہا پناہ کیسی ؟ میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلے۔ان کے فوت ہونے پر رسول کریم ﷺ نے انہیں بوسہ دیا اور آپ کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے۔جب رسول کریم ﷺ کا صاحبزادہ ابرا ہیم فوت ہوا تو آپ نے فرمایا الحق بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونِ یعنی ہمارے صالح عزیز عثمان بن مطعون کی صحبت میں جا۔پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب دوسرا دعویٰ قرآن کریم کے متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔چنانچہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ میں آتا ہے: 35 خداوند تیرا خدا تیرے لئے ، تیرے ہی درمیان سے، تیرے ہی بھائیوں میں سے، تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا۔“ اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہو گا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ہوگا۔کو یا وہ اولا د ابراہیم علیہا السلام میں سے ہی ہوگا نہ کہ کسی غیر قوم سے۔پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ: ” جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ