آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 134 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 134

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 134 باب دوم الله چھوٹا کرتے جا رہے ہیں اور ہر روز ان کی اولادمیں محمد رسول اللہ ﷺ کو دے رہے ہیں۔کیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ غالب آئیں گے۔وہ غالب کس طرح آسکتے ہیں جب کہ ہم ان کے جگر گوشے کاٹ کاٹ کر تیرے حوالے کرتے جارہے ہیں اور انہی ابتر کہنے والوں کے بچے اور عزیز اسلام میں داخل ہو کر اس کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں اور کفار کو بے اولا داور آنحضرت کو با اولا د ثابت کر رہے ہیں۔چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں کے جو بیٹے اور بھتیجے رسول کریم میں کو دیئے گئے ان میں حضرت عثمان ، حضرت زبیر حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت ارقم بن ابی ارقم حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت سعید بن زید تھے۔یہ لوگ ابتدا میں ہی ایمان لے آئے تھے اور وہ رؤساء جو رسول کریم ﷺ کو دیکھ دینے میں سب سے بڑھے ہوئے تھے یہ ان کے بیٹے اور بھانجے اور بھتیجے تھے۔ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کفار کو اور زیادہ غصہ آتا کہ یہ اپنے باپ دادا کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں اور محمد (ﷺ) کی تائید کرتے ہیں۔حضرت عثمان بن مظعون ولید بن مغیرہ کے عزیز تھے اور اس نے ان کو پناہ دی ہوئی تھی۔حضرت عثمان ایک دن باہر جارہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پر سخت ظلم کیا جارہا ہے مگر آپ کو کسی نے کچھ نہ کہا۔انہوں نے ولید کے پاس جا کر کہا کہ میں اب آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔کیونکہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ دوسرے مسلمانوں کو تو اس طرح دکھ دیا جائے اور میں آپ کی پناہ میں محفوظ رہوں۔اللہ تعالیٰ مومن کے ایمان کی آزمائش کرتا ہے۔ادھر انہوں نے پناہ ترک کی اور ادھر یہ حادثہ پیش آگیا کہ لبید جو ایک بہت بڑے شاعر تھے ایک مجلس میں شعر سنا رہے تھے کہ ایک شعر انہوں نے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر چیز خدا کے سوا تباہ ہونے والی ہے اور ہر نعمت آخر میں ضائع ہونے والی ہے۔جب لبید نے پہلا مصرع پڑھا تو حضرت عثمان نے کہا ٹھیک ہے۔اس پر لبید نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا کہ ایک بچہ میرے کلام کی داد دے رہا ہے۔اسے اس نے اپنی ہتک سمجھا اور کہا۔اے مکہ والو! پہلے تو تم میں ایسے بد تہذیب لوگ نہ تھے اب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔انہوں نے یہ بے وقوف بچہ ہے اسے جانے دیں۔حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا اور اب