آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 133 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 133

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات علم غیب 133 باب دوم پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں وہ باتیں ہیں جو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔یعنی قرآن میں علم غیب ہے۔اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کی نہایت ابتدائی کی سورتوں میں سے ایک سورۃ کوثر ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: إنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَة فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْن إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ رسول کریم ﷺ کے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔رسول کریم ﷺ کس طرح ابتر نہیں اور آپ کا دشمن کس طرح ابتر ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا أَعْطَيْنك الكوثر اے محمد (ﷺ) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ الْكَوْثَرَا ہم کر دیا ہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی۔اور اس میں بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے۔پھر فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ اے محمد (ﷺ) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ ، دعائیں کر اور قربانیاں کر۔کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں۔اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابو جہل کا بیٹا چھینیں گئے اور تجھے دے دیں گے۔وہ ابتر ہو جائے گا اور تو اولا د والا ہو گا۔یہی حال دوسروں کا ہو گا۔ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کے بیٹے رسول کریم ے کو دئے گئے اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے۔یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم میں ہے کو کامیابی ہوتی گئی کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے سورۃ انبیاء رکوع ۴ میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے:۔افلا ترون آثانَاتِ الْأَرْضَ تَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبیاء (۴۵) فرمایا کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ ہم ان کے ملک کو اس کے کناروں کی طرف سے