آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page xv
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جولات صفدر علی وغیرہ ان کے مرتد ہونے کا بھی یہی سبب ہے کہ اُس وقت نرمی اور ہمدردی سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اکثر جگہ تیزی اور تختی دکھلائی گئی اور ملائمت سے ان کے شبہات دور نہیں کئے گئے۔اس لئے ان لوگوں نے اسلامی فیوض سے محروم رہ کر ارتداد کا جامہ پہن لیا۔اب اکثر اسلام پر حملہ کرنے والے یہی لوگ ہیں جو قوم کی کم تو جہی سے پریشان خاطر ہو کر عیسائی ہو گئے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہوگا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھاوے۔پس جیسا کہ ہمارے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بد شکل اور مکروہ ظاہر کریں ایسا ہی ہماری تمام کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایہ ثبوت پہنچادیں" البلاغ، فریا دورد روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۲/۳۷۸) مندرجہ بالا اقتباس ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ مخالف کے اعتراض کا جواب دینا ہمارا فرض ہے۔اور یہ آنحضور سے سچا محبت کا اظہار ہے۔جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: اگر ہم رسول کریم سے محبت رکھتے ہیں تو ہماری خوشی اس میں ہونی چاہئے کہ ہم دنیا سے رسول کریم ﷺ کی نسبت شکوک و شبہات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں۔کچی محبت قربانی کا مطالبہ کرتی ہے (خطبات محمود لدا اصفها۱۳) ہمارے موجودہ امام سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی ہمیں متعدد بار اس فریضہ کی طرف متوجہ فرما چکے ہیں۔سال ۲۰۱۳ء کو انصار اللہ پاکستان نے اپنی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق سیرت النبی کے سال کے طور پر منایا ہے۔اس کی سکیم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ آنحضور پر ہونے والے اعتراضات اور ان کے جوابات از حضرت مسیح موعود علیہ السلام و خلفاء سلسلہ کو سیکھاتی طور پر کتابی صورت میں مرتب کر کے شائع کیا جائے۔اس کام کو کرنے کی سعادت خاکسار کے حصہ میں آئی ہے محض