آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page xiv
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جولات xiv یہود و نصاریٰ کی معاونت سے قرآنی تعلیم مرتب کی اور آپ آئی نہ تھے، آپ کو جنون تھا ، آپ پر جادو نے اثر کیا ، آپ نے مذہب کے نام پر لڑائیاں کیں اور اپنے مخالفین کا ناحق قتل کیا۔آپ نعوذباللہ میں شیطان سے پاک نہ تھے بلکہ گناہ گار تھے۔آپ کی تعلیم میں نقائص تھے ، آپ کو معجزات اور تائید الہی نہیں ملی۔آپ نے تعدد ازدواج کو رائج کیا اور نعوذباللہ شہوت پرستی کوفروغ دیا۔الغرض اس قسم کے بے ہودہ ، بے سروپا اور ناحق اعتراضات اور التزامات آپ کی ذات والا صفات پر لگائے گئے اور آج بھی کسی نہ کسی رنگ میں انہیں کو دہرایا جا تا ہے۔مخالفین اسلام کی طرف سے جب آپ پر مختلف الزامات لگانے کی جسارت کی گئی تو اس کے رد عمل میں بعض ایسی حرکات اہل اسلام کی طرف سے سرزد ہوتی رہیں یا ہو رہی ہیں جس کے نتیجہ میں معاندین اسلام کو مزید اعتراضات کا موقع ملتا رہا۔تیرے بعض لوگ ان اعتراضات کے زیر اثر نہ صرف مخالفت میں مزید بڑھ جاتے ہیں بلکہ بعض ارتداد کا راستہ بھی اختیار کر گئے۔اندرین صورت یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ معترض کے اس سے آنکھیں بند نہ کی جائیں بلکہ اصل اعتراض کا جواب دیا جائے اور اسے حق و باطل کی پہچان کا موقع فراہم کیا جائے۔آنحضرت کا حقیقی اور خوبصورت چہرہ دنیا کو دکھانا ہمارا فرض ہے۔اس امر کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہا السلام فرماتے ہیں: " قرآن کریم کی تعلیم کے موافق ہمارا فرض یہ تھا کہ ہم بد زبان شخص کی بد زبانی کو الگ کر کے اس کے اصل اعتراضات کا جواب دیتے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالمَوْعِظَةِ الحَسَنَة وَجَادِلْهُمُ بِالْمِي هِيَ أَحْسَنُ کیونکہ یہ امر نہایت پُر خطر اور خوفناک ہے کہ ہم معترض کے اعتراضوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دیں اور اگر ایسا کریں تو وہ اعتراضات طاعون کے کیٹروں کی طرح روز بروز بڑھتے جائیں گے اور ہزارہا شبہات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائیں گے اور اگر گورنمنٹ ایسے بد زبان کو کچھ سزا بھی دے تو وہ شبہات اس سزا سے کچھ کم نہیں ہو سکتے۔دیکھو یہ لوگ جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں مثلاً جیسے مصنف امہات المومنین اور عمادالدین اور