آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 131
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 131 باب دوم خدا پر تقول نہیں کرتا بلکہ اپنی طرف سے بیان کرتا ہے۔مگر رسول کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے میں بیان کرتا ہوں۔اگر رسول جھوٹا ہو تو فورا تباہ کر دیا جاتا ہے۔پس یہ کا ہن نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا رسول ہے۔اور اس پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔اگر کہو کہ یہ اس طرح اپنی کہانت کو چھپانا ہے تو یا درکھو کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔" ( انوارالعلوم جلد ۱۲استی ۴۳۶ تا سنی ۴۳۸) صفحه صفحه۔☆ مفتری ہونے کا الزام آپ پر مخالفین کی طرف سے نعوذ باللہ مفتری اور کذاب ہونے کا الزام بھی کیا گیا۔اس الزام کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ شخص مفتری اور کذاب ہے۔سورۃ حق میں آتا ہے دشمنوں نے کہا مد اسجد عذاب اس طرح سورۃ محل ۱۴ میں آتا ہے: قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ مخالف کہتے ہیں کہ تو مفتری ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ: وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ أمْ يَقُولُونَ افْتَريهُ قل فاتوا بورةٍ مثل وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ فَأْتُوا (یونس: ۳۹۲۳۸) فرمایا یہ قرآن خدا کے سوا کسی اور سے بنایا ہی نہیں جا سکتا۔اس کے اندر تو پہلی کتابوں کی پیش گوئیوں کی تصدیق ہے پھر اس کے اندر الہامی کتابوں کی تفصیل ہے۔اور اس میں شک کی کوئی بات نہیں۔یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے پاس سے