آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 130
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 130 باب دوم کا قول ہے۔ان کی عقل ایسی ماری گئی ہے کہ اتنی پیش گوئیاں سنتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت اور جبروت کا اظہار ہے مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔دوسر ا ر ڈ اس کا یہ فرمایا: فَلَا أُقْسِم بِمَا تَصِرُونَ الله وَمَا لَا تُبْصِرُونَ إِنَّهُ تَقُولُ رَسُوْلِ كَرِيمة نا ومَا هُوَ بقول شاعر قَلِيلًا مَا تُؤمِنونَ ولا بقونِ كَامِن قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَلَوْ تَقَوْلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ الأَخَذْنَا مِنْهُ باليمين لم لَقَطَعْنَا مِنَهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ (الحاد : ۴۸۲۳۹) ) یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کو بھی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کو بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔یعنی اس کے ظاہری اور باطنی دونوں حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ قرآن ایک عزت والے رسول کا کلام ہے۔ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بات میں کا ہن اور شاعر دونوں مشترک ہوتے ہیں۔شاعر بھی بڑے بڑے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور سب کچھ بیان کرنے کے بعد ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔اسی طرح کا ہن بھی خبریں بتا کر مانگتا پھرتا ہے۔مگر فرمایا یہ رسول تو ایسا ہے جو اپنے پاس سے خرچ کرتا ہے۔کا ہن تو دوسروں سے مانگتا ہے۔یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کو رسول کریم ﷺ کا کلام قرار دیا گیا ہے یہاں رسول کہہ کر اس شبہ کو رڈکر دیا ہے۔اور بتایا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں کیونکہ رسول وہی ہوتا ہے جو دوسرے کا پیغام لائے۔اگر محمد ( رسول الله ) اپنی طرف سے بیان کرتا تو آپ کا کلام سمجھا جاتا ہے مگر بی تو رسول ہے۔تیسری دلیل یہ دی کہ کا ہن تو اپنے اخبار کو اپنے علم کی طرف منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے جفر ، رمل، تیروں اور ہندسوں وغیرہ سے یہ یہ باتیں معلوم کی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف اپنی خبروں کو منسوب نہیں کرتا۔مگر یہ رسول کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے کلام پا کر سناتا ہوں اور یہ اپنے کلام کو تنزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہتا ہے۔یہاں یہ بھی بتا دیا کہ کا ہن ایسی باتیں بیان کرنے کی وجہ سے اس لئے سزا نہیں پاتا کہ وہ صلى الله