آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 129
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات نصیحت حاصل نہیں کرتے۔129 باب دوم یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جہاں دو جگہ مسحور کا ذکر آیا ہے وہاں دونوں جگہ یہ آیت بھی ساتھ آئی ہے کہ آنظر كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبیلا اسی طرح کا بہن کا لفظ بھی دو جگہ آیا ہے۔اور دونوں جگہ ذکر کا لفظ ساتھ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کا بہن اور مذکر دونوں اضداد میں سے ہیں۔چنانچہ سورہ طور رکوع ۲ میں آتا ہے۔فَذَكَر فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا تَجنُونِ (المور:۳۰) ان لوگوں کو نصیحت کر کیونکہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ کا ہن ہے نہ مجنون۔یعنی کا ہن مذکر نہیں ہوسکتا اور مذکر کا ہن نہیں ہو سکتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کا ہن در حقیقت ارڈ پوپو کی قسم کے لوگوں کو کہتے ہیں جو بعض علامتوں وغیرہ سے اخبار غیبیہ بتاتے ہیں۔چونکہ رسول کریم ﷺ غیب کی اخبار بتاتے تھے بعض نادان آپ کو کا ہن کہہ دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی اخبار تو محض اخبار ہوتی ہے اور اس کی اخبار تذکیر کا پہلو رکھتی ہیں اور اصلاح نفس اور اصلاح قوم سے تعلق رکھتی ہیں تو پھر یہ کا بہن کیونکر ہوا۔کاہنوں کی خبریں تو ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے مولوی یہ ہان الدین صاحب جہلمی کو ایک نے بتائی تھی۔مولوی صاحب نے ایک دفعہ پر دہ میں بیٹھ کر ایک ارڈ پوپو کو اپنا ہاتھ دکھایا۔اس نے آپ کو عورت سمجھ کر خاوند کے متعلق باتیں بتانی شروع کر دیں۔جب وہ بہت کچھ بیان کر چکا تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی داڑھی اس کے سامنے کر دی۔یہ دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور پھر کبھی اس محلہ میں نہیں آیا۔غرض کاہنوں کی خبر میں محض خبریں ہوتی ہیں کہ فلاں کے ہاں بیٹا ہوگا۔فلاں مر جائے گا۔ان میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار نہیں ہوتا۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ جو خبریں بتاتے ہیں ان کو کاہنوں والی خبر میں نہیں کہا جا سکتا۔یہ تو ایمان کو تازہ کرنے والی اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے حلال کو ظاہر کرنے والی ہیں۔رسول کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں جو میرا مقابلہ کرے گا وہ ناکام رہے گا اور جو مجھے مان لے گا جیت جائے گا مگر کوئی کا ہن یہ نہیں کہہ سکتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا بِقَوْنِ كَاهِنٍ قَلِيْلًا مَا تَذَكَّرُونَ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کا ہن