آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 127
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 127 باب دوم محمد رسول اللہ اللہ کے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِينَ عبيرا اور مکہ کی فتح کا دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا۔باقی رہے خزانے سوان کے متعلق فرمایا: وَقَالَ الرَّسُولَ يُرَبِّ إِن قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱) اِنَّ ہمارا یہ رسول قیامت کے دن اپنے خدا سے کہے گا کہ اے میرے رب انہوں نے اگر حکومت نہ دیکھی تھی تو اس کے متعلق اعتراض کر لیتے ، خزانے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے، فرشتے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے مگر یہ قرآن کو دیکھ کر کس طرح انکار کر سکتے تھے۔مگر افسوس کے اتنے بڑے قیمتی خزانہ کا بھی انہوں نے انکار کر دیا۔حالانکہ یہ تو ان کو دکھائی دینے والی چیز تھی۔سورۃ بنی اسرائیل میں بھی یہ ذکر ہے کہ رسول کریم میے کو سمور کہا جاتا تھا۔چنانچہ فرماتا ہے: إذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (بنی اسرائیل: ۲۸) یعنی ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم ایک مسحور کی پیروی کر رہے ہو۔پھر اس جگہ اور سورہ فرقان میں بھی اس کے معابعد یہ آیت آتی ہے : انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا (الفرقان (۱۰) یعنی دیکھ یہ کیسی باتیں تیرے لئے بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ سارا زور تیرے پیش کردہ کلام کے رد میں لگا رہے ہیں اور نا کامی اور نا مرادی کی وجہ سے ان کی جانیں نکلی جارہی ہیں مگر پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ اس پر کسی جادو کا اثر ہے۔اگر یہ بات ہے تو اس کمزور کے مقابلہ سے یہ لوگ کیوں عاجز آ رہے ہیں مسحور تو دوسروں کا تابع ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو اپنے تابع کر رہا ہے اور دوسرے تمام لوگ اس کے مقابل پر عاجز ہیں۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس اعتراض میں مسلمان بھی کافروں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ رسول کریم پر ایک جادو کر دیا تھا اور اس کے اثرات بڑے لمبے عرصہ تک آپ پر رہے۔اور اس میں وہ امام بخاری کو بھی گھسیٹ لائے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں وہ صاف طور پر پڑھتے ہیں وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ