آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 126
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 126 باب دوم تَنْزِيلًا الْمُلْكُ يَوْمَبِيرِ الْحَقُّ لِنَرْحُسنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِينَ عَسِيرًا (الفرقان ۲۲ تا ۲۷) یعنی بی نا دان کہتے ہیں کہ یہ مسحور ہے اور ثبوت پیش کرتے ہیں کہ ہمیں کیوں فرشتے نظر نہیں آتے ، ہمیں کیوں خزانے دکھائی نہیں دیتے۔لولا أنزِلَ عَلَيْنَا الْمَليكة هم پرده فرشتے کیوں نہیں اترتے جن کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھ پر اترتے ہیں۔اونای ربنا یا یہ کہتا ہے کہ میں اپنے رب کو دیکھتا ہوں ہمیں وہ کیوں نظر نہیں آتا۔یہ جاہل خیال کرتے ہیں کہ ہمیں چونکہ وہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے یہ جو ان کے دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو مسحور ہے مگر یہ اپنے نفسوں کو نہیں دیکھتے۔کیا ایسے گندوں کو خدا نظر آ سکتا ہے۔انہوں نے بڑی سرکشی سے کام لیا ہے۔يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَبِكَةَ لَا بُشرى يَوْمَيدٍ الْمُجْرِمِينَ ان کو بھی فرشتے نظر آئیں گے مگر اور طرح۔جب انہیں فرشتے نظر آئیں گے تو یہ کانوں کو ہاتھ لگائیں گئے اور کہیں گئے کہ کاش یہ ہمیں دکھائی نہ دیتے۔اس دن مجرموں کے لئے خوشخبری نہیں ہوگی۔بلکہ یہ گھبرا کر کہیں گے کہ ہم سے پرے ہی رہو۔اسی طرح ہم بھی ان کو نظر تو آئیں گے مگر انعام دینے کیلئے نہیں بلکہ وَقَدِمْنَا إِلى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْتُهُ هَبَا مَّنثُورًا ہم ان کو تباہ کرنے کے لئے ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کی حکومت کو باریک ذروں کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے۔اور وہ جن سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایک مسحور کے پیچھے چل رہے ہیں ان کیلئے وہ بڑی خوشی کا دن ہوگا۔اضمت الجنَّةِ يَوْمَيذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرا وَاحْسَن مقیلا ان کو نہایت اعلی جگہ اور آرام دہ ٹھکانہ ملے گا۔اس کے آگے تفصیل بیان کی ہے کہ ويَوْمَ تَشقَّقُ السَّمَاءِ بِالْغَمَامِ وَنَزَّلَ الْمَلَيْكَةُ تَنزِيلًا اس دن آسمان سے بارش ہر سے گی اور بہت سے فرشتے اتارے جائیں گے جیسے بدر کے موقع پر ہوا۔المُلْكُ يَوْمَينِ الْحَقِّ لِلرَّحْمنِ اس دن مکہ کی حکومت تباہ کر دی جائے گی اور حکومت