آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 125
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 125 باب دوم قرآن کا اثر تو یہ ہے کہ ظاہر کی بجائے دلوں کو بدلتا ہے اس لئے اسے اجر نہیں کہہ سکتے۔یہ حکمت بالغہ ہے۔یعنی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جو دور تک اثر کرنے والی ہیں۔یہ اندرونی جذبات اور افکار پر اثر ڈالتی ہیں۔مگر ان لوگوں کو یہ انذار فائدہ نہیں دیتا۔چوتھا اعتراض پھر بعض نے کہا کہ یہ ساحر تو معلوم نہیں ہوتا ہاں مسحور ضرور ہے۔یعنی خود تو بڑا اچھا ہے لیکن کسی نے اس پر سحر کر دیا ہے اس لئے یہ ایسی باتیں کہتا پھرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَقَالَ الظَّلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا (الفرقان (۹) یعنی ظالم لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک مسحور کی اتباع کر رہے ہیں۔کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل ماری گئی ہے۔: ٩) اس آیت سے پہلے ملائکہ کے نزول کے متعلق معترضین کا مطالبہ ہے۔جب رسول کریم نے فرمایا کہ ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور خزانے عطا کرتے ہیں ( ملائکہ سے الہام اور خزانے سے معارف قرآن مراد تھے ) تو مخالفین نے کہا کہ دیکھو اسے جو ملائکہ نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسحور ہے۔فرشتے ہمیں نظر نہیں آتے خزانے ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خزانے مل رہے ہیں ، کہاں ملے ہیں؟ یہ سحر کا ہی اثر ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے۔اسی طرح اور بہت سے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاء نَا لَولا أنزلَ عَلَيْنَا الْمَليكة أو نرى رَبَّ يُقَاءَنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِى أَنفُسِهِمْ وَعَتَو عَدُّوا كَبِيرَاتِ يَوْمَ يَرُونَ أَمَليكة لا بُشرى يَوْمَيذٍ لِلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا وَقَدِمْنَا إلى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَه هَبَاءً منثورا أَصْحَبُ الْجَنَّةِ يَوْمَيدٍ ) خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزَلَ الْمَلَيْكَهُ