آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 124 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 124

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 124 باب دوم ہے۔کچھ مشتبہ ہی خواہیں ہیں جو اسے آتی ہیں۔یعنی آدمی تو اچھا ہے۔اس کی بعض باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بعض بری باتیں بھی اسے دکھائی دیتی ہیں۔جنون اور اضفات احلام أَضْغَاتُ میں یہ فرق ہے کہ جنون میں بیداری میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے لیکن أَضْغَاتُ میں نیند صلى الله میں دماغی تنقص پیدا ہو جاتا ہے۔چونکہ مخالفین دیکھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے معاملات میں کوئی نقص نہیں اس لئے کہتے کہ جنون سے مراد ظاہری جنون نہیں بلکہ خواب میں اسے ایسی باتیں نظر آتی ہیں۔اس کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ: + لَقَدْ أَنزَلْنَا إِنِّيْكُمْ كِتُبافِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (الانيا (1) جن لوگوں کو اضغات اخلاق ہوتی ہیں کیا ان کی خوابوں میں قومی ترقی کا بھی سامان ہوتا ہے؟ پراگندہ خواب تو پراگندہ نتائج ہی پیدا کرسکتی ہے مگر اس پر تو وہ کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہارے لئے عزت اور شرف کا موجب ہے۔کیا دماغ کی خرابی سے ایسی ہی تعلیم حاصل ہوتی ہے ؟ تم اپنے آپ کو عقل مند کہتے ہو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟ تیسرا اعتراض: پھر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ هذا ستجر (ص:۵) کہ یہ جادوگر ہے۔اجر کے معنی عربی زبان میں جھوٹ کے بھی ہوتے ہیں۔مگر مخالفین نے رسول کریم میے کو الگ بھی جھوٹا کہا ہے۔اس لئے اگر اس کے معنی جھوٹ کے ہوں تو اس کا جواب علیحدہ ہوگا۔دوسرے معنی اجیر کے یہ ہوتے ہیں کہ باطن میں کچھ اور ہو اور ظاہری شکل میں کچھ اور دکھائی دے۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے: وإن يروا ايَةً تُعرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْر مستمر (القمر (۳) اگر یہ لوگ محمد يَّرَوا کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو اعراض کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔یہ بڑا پرانا جادو ہے۔آگے فرماتا ہے: حِكْمَةٌ بَالِغَةً فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ قرآن میں تو حکمت بالغہ ہے۔قرآن میں ایسے مضامین ہیں جو دلوں میں تبدیلی پیدا کرنے والے ہیں۔اجیر کے معنی تو یہ ہیں کہ ظاہر کو مسخ کر دیا جائے اور باطن آزا در ہے۔مگر